پاکستان اور ایکسٹینشنرز۔۔۔ تحریر: شازیہ کاسی

ویسے تو میرے ملک میں مون سون ہر سال آتا ہے اور غریبوں کو بہا لے جاتا ہے ۔ کراچی ہمیشہ سے جب سے میں نے ہوش سنبھالا بری طرح غرقاب ہوتے دیکھا ۔ کچی بستیياں، نالوں کے کچرے گٹر کے فواروں کے بدبودار نظارے، سڑکوں پر پانی، پانی میں کشتیوں کی طرح تیرتی گاڑیاں، لوگ، لوگوں کا سامان مگر یہ سب پل کے اس طرف کی کہانی ہے ۔ غضب اس دفعہ یہ ہوا کے امرا و شرفا یعنی پل کے دوسری طرف ،پانی سڑکوں ، گٹر کا پانی گھروں میں ۔ جی ہاں ڈیفنس اور کلفٹن بھی زیر آب آگیا۔ ڈیفنس ایکسٹنشن 6، 7، 8 وغیرہ علاقوں میں پانی دنوں تک ٹھرا گیا ۔ احتجاج بھی ھوا۔

ایف آئی آر بھی درج ہوئی اور معاملہ ہائی کورٹ تک جا پہنچا۔ یہ پانی ان پوش علاقوں میں کیسے جا پہنچا، ملیر ندی کی طغیانی نے اپنا سارا غصہ سمندر میں انڈیل دیا۔ ارے صاحب رہنے دیجئے، کون سا سرجانی ٹاؤن ، کہاں کا یوسف گوٹھ ، کون سا ناظم آباد یہاں کے لوگ اپنا جان و مال دیکھیں۔ برهنہ بدن کو ڈھانپنے کی فکر کریں یا احتجاج کریں، کورٹ میں جا کے اپنا حق استعمال کریں۔ یہ احتجاج کیا کبھی پل کے اس طرف رہنے والے لوگوں نے غریبوں کی بستیوں کے اجڑنے ، انکے مرنے کے خلاف کیا؟میری یاداشت میں ایسا کوئی واقعہ نہیں محفوظ، مگر یہ لوگ جو زندگی جیتے ہیں وہ پھر سے زندگی کی تگ و دو میں لگ جاتے ہیں مگر زندہ رہتے ہیں ۔ جن پوش علاقوں میں پانی نے داخل ہونے کی جرات کی وہ تمام ڈی ۔ایچ ۔اے کے ایکسٹینشن ہیں۔ ذرا غور کیجئے کہ سمندر پہ چائنا کٹنگ کر کے گھر بناتے ہو اور سمندر جب اپنا حق لینے آتا ہے تو CBCاور DHA کو کوسنے لگتے ہو ۔ کیوں کسی کو معلوم نہیں ہے کہ مصنوعی جگہ پہ بنگلے بنانے سے پہلے اس کی معلومات نہیں لیتے، پڑھے لکھے لوگ کتنے غافل ہوتے ہیں ۔ بلکل اسی طرح جس طرح ایوانوں میں مقتدر حلقوں کو ایکسٹینشن دی جاتی ہے پھر جو بھی نظام آتا ہے ،مصنوعی ہوتا ہے ،بے بس پاکستانی کا مصنوعی نمائندہ بےبس بیٹھا ذاتی مفادات کی حد تک محدود رہنے تک مجبور کر دیا جاتا ہے ۔ اس ملک میں ایکسٹینشن نے جتنے طوفان بغیر مون سون کے برپا کر رکھے ہیں ان کی کوئی بات نہیں کرتا ہے ، نظام چلنے نہیں دیتا،سب بوٹ کے تسمے اور مولوی کے ازار بند کے ہاتھوں مجبور ہو جاتے ہیں ۔ اور عوام کی آواز بھی عوام پہ مسلط کر کے اقتدار کے ایوانوں میں بھجوائی جاتی ہے ۔ جس کا نتیجہ آج کراچی کے حالات ہیں ۔

جب تک گھر کے اندر سے در اندازی ختم نہیں ہوگی ۔ سرحدوں سے دراندازی ہوتی رہی ہے اور ہوتی رھے گی پھر چاہیے وہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی صورت میں ہو ۔ یا سفارتی تعلقات کی صورت میںہو یا دہشت گردی ہو یا نہ ہو۔ ایکسٹینشن کسی بھی نظام کو نہیں چلنے دے گا جب تک سب اپنے حدود کا فیصلہ گھروں سے لے کر اداروں تک پوری آزادی سے نہ کر لیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.