ہلکا ہلکا خمار ہے ۔۔۔ تحریر: شیر محمد اعوان

موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ سابقہ حکومتوں نے معیشت کے رنگ میں بھنگ ڈالی. شاید اسی وجہ سے معیشت کو اپنے پاوں پر کھڑا کرنے کے لیے کنسٹرکشن انڈسٹری کو اٹھانے اور بھنگ اگانے کا فیصلہ کیا گیا. پاکستان. میں چونکہ آواز اٹھانے والے کو اٹھا لیا جاتا ہے اور تنقید کرنے والے کا حب الوطنی کے پرچہ میں پاس ہونا مشکل ہو جاتا ہے اس لیے بہتر ہے کہ آواز کے گھوڑے پر حقائق کی کاٹھی ڈال کر اسے عوامی حلقوں میں چھوڑا جایے کیونکہ ساری عوام "بھنگ پی کے” نہیں سوئی ہوتی. یہاں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ قارئین کو ایسے فقرات کو ہضم کرنے کی عادت ڈال لینی چاہیے. کیونکہ قومی سطح پر کیے گئے فیصلوں کے مطابق اب بھنگ ہمارے سنگ ہے.

جناتی بوٹی کے نام سے برصغیر میں دریافت ہونے والی بوٹی جس کے اور کئی نام ہیں عام طور پر نشہ کے طور پر پی جاتی ہے. اسکے بہت سے فوائد بھی ہیں جنکی بنیاد پر حکومت اسکو کاشت کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے اسکی وضاحت سے پہلے قارئین یہ جان لیں کہ یہ بوٹی دنیا بھر میں سستے نشہ کے طور پر استعمال کی جاتی ہے.ایک سال پہلے سابق امریکی صدر اوباما نے اپنے ایک بیان میں بڑی محتاط رائے دی تھی کہ بھنگ کا نشہ شراب سے کم خطرناک ہے۔ انہوں نے بھنگ پینے والے غریب لڑکوں کے جیل جانے پر بھی گہری تشویش کا اظہارکیا تھا انکا کہنا تھا کہ وہ بھنگ پینے کی حمایت نہیں کر رہے یہ ایک برا خیال ہے لیکن یہ ایک سستا نشہ ہے. زیادہ تر غریب اور سیاہ فارم جو شراب نہیں خرید سکتے وہ پیتے ہیں.اگرچہ انکی یہ بات کسی حد تک ٹھیک ہے لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ بھنگ کا نشہ شراب یا دوسرے نشوں سے قدرے مختلف ہے. تحقیق اور مشاہدہ سے پتہ چلتا ہے کہ بھنگ کا نشہ بزدل بناتا ہے اور پینے والا خوفزدہ اور عجیب کیفیت میں مبتلا رہتا ہے. رونے لگے تو رونا اور ہنسنے لگے تو ہنسی رکنا مشکل ہے. بہت سے ممالک میں اسکی کاشت اور کاروبار پر پابندی ہے. لیکن ہر ملک میں بہت زیادہ قدرتی طور پر اگتی ہے. چلی میں بھنگ کے صرف چھ پودے کاشت کرنے کی اجازت ہے. کینڈا میں بھنگ کی پیداوار دس لاکھ ایکڑ سے سمٹ کر تقریبا ایک ہزار ایکڑ رہ گئی ہے اور کینڈا اسکی کاشت کے متعلق پچھلے چند سالوں سے سنجیدگی سے سوچ رہا ہے. برازیل اور چند دوسرے ممالک بھی اسی طرح کی سوچ رکھتے ہیں.ایک خبر یہ بھی ہے کہ کینڈا اور امریکہ میں لاک ڈاون کے دوران بھنگ پنیے کا رواج بڑھا ہے. اب امریکا کی کم از کم 20 ریاستوں میں طبی استعمال کے لیے بھنگ کی بعض اقسام اگانے کی اجازت ہے جب کہ دو ریاستوں( کولوریڈو اور واشنگٹن) میں ذاتی استعمال کے لیے اس کی اجازت ہے۔اگرچہ امریکی تحقیقی مراکز نے تنبیہ کی کہ مستقبل میں اسکے مضر اثرات ظاہر ہونگے. یورو گوئے دنیا کا پہلاملک ہے جس نے 2013 میں بھنگ کا قانونی بازار قائم کیا.جرمنی کے شہر برلن کے کونسلرز نے بھی بھنگ کافی دوکان قائم کرنے کی اجازت دی ہے. جرمنی میں ایک عدالت نے تو یہ فیصلہ بھی دیا ہے کہ دیرینہ درد کے امراض کے شکار افراد طبی استعمال کے لیے بھنگ اْگا سکتے ہیں۔ عدالت نے یہ فیصلہ پانچ مریضوں کی جانب سے دائر ایک مقدمہ نمٹاتے ہوئے سنایا تھا۔

بھنگ کی کاشت میں روس سب سے آگے ہے اور ادویات اور صنعت میں اسکا استعمال روس میں زیادہ ہے. دل چسپ بات یہ بھی ہے کہ بھنگ، ٹیکسٹائل صنعت میں بھی استعمال ہوتی ہے۔اور بھنگ سے تیار روسی لباس تیزی سے مقبولیت پا رہے ہیں. روس نے بھنگ کی ایک خاص قسم جو کم نشہ آور ہوتی ہے اسکی کاشت بڑھائی ہے اور مستقبل میں مزید تجربات کیےجائیں گے. بھنگ کو طب میں بہت کامیابی سے استعمال کیا جا رہا ہے اس کے تیل کو فالج کے مریضوں اور شدید درد میں مبتلا مریضوں کے علاج کیلیے استعمال کیا جارہا ہے. اسکے بیج بھی ادویات سازی میں استعمال ہو رہے ہیں.کینسر کے مریضوں کو آپریشن کے بعد متلی روکنے، جوڑوں کے درد کے علاج کے علاوہ کاسمیٹکس میں بھی اسکا استعمال کیا جا رہا ہے یہی نہیں بلکہ صنعت میں اسکی ڈیمانڈ اور استعمال سے روس میں دس لاکھ نوکریاں پیدا ہوئی ہیں. اس ڈیمانڈ اور استعمال کو دیکھتے ہوئے کئی ممالک نے اسکی کاشت کا ارادہ کیا ہے. کینیڈا نے بھنگ کی کاشت میں سرمایا کاری آٹھ فیصد بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے.ایک اندازہ یہ بھی لگایا جا رہا ہے کہ پابندی کم ہونے کی وجہ سے اگلے پانچ سال میں بھنگ کی مارکیٹ 50 بلین سے زیادہ ہو جائیگی.

پاکستان نے اس ساری صورت حال کو دیکھتے ہوئے اپنی معیشت لال کرنے کا سوچا ہے. اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر باقی ممالک یہ سب کر رہے ہیں تو پاکستان کیوں نہیں کر سکتا یا یہ واویلا اور تنقید کیوں ہے. اسکی کئی وجوہات ہیں. پاکستان میں نشہ آور ادویات کی خریدو فروخت پابندی کے باوجود کھلے عام جاری ہے. اور عموما انتظامیہ بڑے پیمانے پر خود ملوث ہوتی ہے. ہر گلی کوچے میں آپ کو اسکا ثبوت ملتا ہے. بھنگ پر بھی پاکستان میں سیکشن چار اور چھ کے مطابق پابندی ہے لیکن بھنگی ٹی وی اور سوشل میڈیا پر اپنی سردائی کے ہمراہ انٹرویو دیتے نظر آتے ہیں. اگر پابندی کے باوجود یہ حال ہے تو اجازت کے بعد "چیک اینڈ بیلنس” کے دعوے بھی سیاسی وعدے ثابت ہونگے. یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ جہاں کئی فائدے ہیں وہاں بے شمار تحقیقی اداروں کی تحقیق کا نچوڑ ہے کہ اس کے زَیادہ استعمال سے دماغی صلاحیت کم ہوتی ہے. اور شراب یا دیگر نشہ آور ادویات کی نسبت 8 فیصد آئی کیو لیول کم ہو جاتا ہے. زیادہ عرصہ بھنگ پینے کے بعد اگر چھوڑ بھی دیں تو بھی اثرات نہیں جاتے. پھر عام اگ آنے والی بھنگ اور ادویات میں استعمال ہونے والی بھنگ میں بہت فرق ہے. کاشت کا فیصلہ تو کر لیا گیا لیکن فی الوقت ایسا کوئی میکانزم اور پالیسی سامنے نہیں آئی جس سے کاشت کو جانچا جائے گا کہ مختلف جگہ پر کاشت ہونے والی مطلوبہ قسم ہے یا عام نشے کیلیے کاشت ہوئی ہے. اس سے بھی اہم یہ کہ اگرچہ کچھ یونیورسٹیز کے پروفیسرز بتا رہے ہیں کہ کہ وہ 1983 سے اس پر ریسرچ کر رہے ہیں لیکن ایسی کوئی موثر ریسرچ آج تک پاکستان میں ڈیبیٹ کا حصہ نہیں بنی نہ عالمی سطح پر ایسی کسی ریسرچ نے پذیرائی حاصل کی. اس سے اس بیانیے پر یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے. کاشت کا فیصلہ کرنے سے پہلے حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ چند ایکڑز پر اسکا تجربہ کرتے اور مطلوبہ کم نشہ کی حامل قسم حاصل کرنے کے بعد ملکی سطح پر کاشت کا فیصلہ ہوتا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.