ماں اور بارش ۔۔۔ تحریر: اسامہ غیاث قریشی

ماں وہ ہستی ہے جو بازار سے نہیں ملتی ، ماں وہ ہستی ہے جس کا پیار اپنی اولاد کیلئے کبھی کم نہیں ہوتا۔ اس کیلئے اسکی اولاد چاہے وہ ایک ہو یا سو کبھی اس کا پیار کم نہیں ہوتا۔سردیوں کی رات تھی اور بہت تیز بارش تھی اور آندھی ایسی تھی جیسے ابھی ہی سب کچھ اڑا کے لے جائے گی میں آفس بیٹھا تھا اچانگ میرےذہن میں خیال آیا کہ گھر کال کر کے بتا دوں کہ میں آج لیٹ ہوں کیونکہ میرے گھر جانے تک میری ماں کبھی نہیں سوتی تھی ۔ میں نے گھر کال کی اور بہن کو بتایا کہ امی کو بتانا کہ میں آج تھوڑا لیٹ ہو جاوں گا ۔ خیروقت گزرتا گیا اور رات کا دوسرا پہر آگیا ، رات کے 12 بج گئے اور میں آفس بیٹھا تھا ۔

وقت اور تیزی سے گزرتا گیا اور وقت کے ساتھ بارش بھی تیز ہونے لگی ، آندھی بھی تیز ہونے لگی جیسے ابھی سب کچھ اڑا کے لے جائے گی اور تیسری میری ماں کے دل کی دھڑکنیں جو مجھ پر جان نچھاور کر تی تھی۔ خیر میں نے اپنا کام ختم کیا آفس سے اٹھااور گھر کی طرف نکل گیا۔ راستے میں بارش اور تیز ہو گئی ۔میں جیسے ہی گلی سے اندر گیا ، کیا دیکھا ایک عورت جس کے ہاتھ میں چھتری تھی اور ایک شال تھی وہ وہاں کھڑی کسی کا انتظار کر رہی تھی شاہد ااپنے بیٹے کا جو صبح سے آفس تھا ، وہ عورت چھتری لے کر آفس تک تو نہ جا سکی لیکن وہاں تک ضرور گئی جہاں تک اسکو رسائی تھی۔ وہ وہاں تک ضرور گئی جہاں اسکو محسوس ہوا کہ یہاں سے بھی میرا بیٹا تھوڑا اور بھیگنے سے بچ جائے گا وہ وہاں تک ضرور گئی جہاں سے اسکو لگا کہ دور تک سے اسکا بیٹا اس کو آتا دیکھائی دے گا۔ خیر جیسے ہی اسکا بیٹا وہاں پہنچا اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑی چھتری اسکو پکڑائی جو بھیگا ہوا آیا تھا ۔ اس نے گرم شال بیٹے کو دی کہ شاہد سردی تھوڑی کم ہو جائے ۔ لیکن بیٹا اتنا خود غرض تھا اسنے فورا سے وہ چھتری لےلی اور شال رکھ کے اندر چلا گیا۔اور وہ عورت جو سر اپائوں تک بھیگی ہوئی تھی گیٹ بند کر کےاندر آئی اور پہلا سوال ہی یہی پوچھا کھانا کھایا کہ نہیں۔ تب جا کہ اس لڑکے کو اس دن احساس ہوا کہ ماں کو جنت کیوں کہا گیا ہے۔ تب جا کے اس خود غرض لڑکے کو احسااس ہوا کہ ماں کو مسکرا کے دیکھنے سے حج کا ثواب کیوں ملتا ہے۔

صبح جب وہ لڑکا اٹھا تو اسکی ماں کو بہت تیز بخار تھا ۔ میں حیران اس بات سے ہوں کہ آج کل کے جوان لڑکے کیسے ایک لڑکی کیلئے ماں کا پیار بھول جاتے ہیں ۔ وہ دو دن کے پیار کیلئے کیسے اس ہستی کا پیار بھول جاتے ہیں جو اس پر جان نچھاور کرتی ہے۔ میں حیران ہوں کیسے وہ اپنی ماں سے کہتے ہوں گے کہ میں اس لڑکی کے بغیر مر جائوں گا۔ بیٹا جب پیدا ہوتا ہے تو ماں کو اس بات کی خوشی بھی ہوتی ہے کہ میرا سہارا بنے گا ۔وہ ماں خود تو بھوکی رہتی ہے لیکن بیٹے کو پیٹ بھر کے کھانا کھلاتی ہے۔ کبھی ایسے حالات بھی کسی کے گھر آتے ہیں کہ اگر گھر صرف ایک بندے کا کھانا ہو تو ماں ہی وہ ہستی ہوتی ہے جو کہتی ہے مجھے بھوک نہیں ۔ ماں کو جنت کا مقام خدا نے اسی لیے دیا ہے ، ماں کے پیار کا کوئی ثانی نہیں ، ماں جیسا پیار دنیا میں کوئی دوسرا نہیں کر سکتا ۔
دوا کام نہ آئے تو نظر بھی اتارتی ہے
یہ ماں ہے صاحب! یہ کہاں ہار مانتی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں