حکومت کی مہنگائی کے ستائے عوام پر بجلی بم گرانے کی تیاریاں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت ایک بار پھر ملک میں بجلی کی قیمتوں میں ضافے کا عندیہ دے دیا ، وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر کہتے ہیں کہ بجلی کی قیمت میں اضافہ کرنا پڑا تو ضرور کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ حکومت کے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے ، جیسے ہی ہمیں موقع ملے گا تو آئی ایم ایف کا پروگرام بحال کر دیا جائے گا کیوں کہ معاشی استحکام کے باوجود آئی ایم ایف کا پروگرام مکمل کرنا ضروری ہے ، اس سلسلے میں ہماری کوشش ہوگی کہ ملک میں بجلی کی

قیمتوں میں کم سے کم اضافہ کیا جائے لیکن اگر قیمتیں بڑھانا پڑیں تو ضرور بڑھائی جائیں گی۔دوسری جانب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران حماد اظہر نے کہا کہ پاکستان ‏پیپلز پارٹی کے دور میں پاکستان اسٹیل ملز خسارے میں تھی، مسلم لیگ (ن) کے دور میں اسٹیل ملز بند ہوگئی اور گزشتہ 5 سال سے پاکستان اسٹیل ملز مکمل بند ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں میں ملازمین کی ماضی میں سیاسی بھرتیاں کی گئی ہیں، پاکستان اسٹیل ملز کی صلاحیت کم کی گئی، ‏ملازمین کی تنخواہوں کے لیے ماہانہ 75 کروڑ روپے درکار ہوتے ہیں، مسئلے پر وہ لوگ سیاست کر رہے ہیں جنہوں نے ادارے کو ڈبویا، ماضی میں بروقت فیصلے ہوتے تو صورتحال بہتر ہوتی۔ان کا کہنا تھا کہ اسٹیل ملز کے ساڑھے 9 ہزار ملازمین ہیں، پہلے مرحلے میں ساڑھے 4 ہزار ملازمین نکالے جائیں گے جنہیں 10 ارب سے زائد کے واجبات ادا کریں گے اور فی ملازم اوسط 23 لاکھ روپے دیں گے، اگر بروقت فیصلے ہوتے تو اتنے پیسے نہ لگتے۔حماد اظہر نے کہا کہ ‏سرکاری اداروں کے نقصانات ہمارے دفاعی بجٹ سے زیادہ ہیں، ‏2 ہزار ارب سے زیادہ قومی اداروں کے نقصانات ہیں، ‏ہمیں پتا ہے اس معاملے پر سیاست ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اسٹیل ملز پر 230 ارب روپے کا قرض ہے، اسٹیل ملز کو بیل آؤٹ پیکج کے نام پر اب تک حکومتیں 92 ارب روپے دے چکی ہیں تاہم موجودہ حکومت نے اسٹیل ملز سے متعلق معاشی بہتری کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‏اسٹیل ملز کی 19 ہزار ایکڑ زمین ہے جس کی 13 سو ایکڑ زمین لیز پر دی جائے گی، اسٹیل ملز کے پنشنرز کے واجبات کلیئر کردیے گئے ہیں جبکہ اس کی نجکاری کا عمل شفاف طریقے سے مکمل کریں گے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان اسٹیل ملز نے ڈی سی ایز ،منیجرز اور صحت عامہ سمیت مختلف شعبوں سے 4 ہزار 544 ملازمین کو برطرف کردیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں