صدر عارف علوی نے جنرل سرفرازشہید کےجنازے میں جانےکی خواہش ظاہرکی لیکن اجازت نہ دی گئی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/این این آئی )سینئر صحافی و اینکر پرسن سلیم صافی نے کہا کہ صدر عارف علوی نے جنرل سرفرازشہید کےجنازے میں جانےکی خواہش ظاہرکی لیکن اجازت نہ دی گئی ۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سلیم صافی نے کہا ہے کہ ’’باخبر ذرائع کےمطابق صدر عارف علوی نے جنرل سرفرازشہید اوردیگرشہدا کےجنازے میں جانےکی خواہش ظاہرکی

لیکن پی ٹی آئی کےسوشل میڈیا ٹرولز کی طرف سےشہداکےمعاملےپرجو خرافات شئیرکئےگئے اسکی وجہ سے شہدا کی فیملیز کی صفوں میں پائےجانےوالےغم و غصےکی وجہ سے انہیں آنےکا گرین سگنل نہیں دیا گیا۔دوسری جانب بلوچستان میں گزشتہ روز ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے پاک فوج کے لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی ایک ذہین اور قابل افسر تھے۔لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کا تعلق لاہور سے تھا، انہوں نے 1989 میں آزاد کشمیر رجمنٹ میں کمیشن لیا تھا۔لیفٹیننٹ جنرل سرفراز نے پاکستان آرمی کے کلیدی عہدوں پر کام کیا، شہادت کے وقت وہ کورکمانڈر 12کور (جسے کوئٹہ کور بھی کہا جاتا ہے) کے عہدے پر تعینات تھے اور بلوچستان میں سیلاب زدہ علاقوں میں ریلیف کیکاموں کا جائزہ لے رہے تھے۔اس سے قبل انہوں نے ٹرپل ون بریگیڈ کی کمانڈ بھی کی اورکمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کے کمانڈنٹ بھی رہے۔ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز ملٹری انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل بھی رہے، انہوں نے مشکل وقت میں آئی جی ایف بلوچستان کی حیثیت سے بھی فرائض سرانجام دئیے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انہیں بہترین کارکردگی پر دو مرتبہ تمغہ بسالت سے نوازا گیا۔لیفٹیننٹ جنرل سرفراز نے بیوہ ، ایک بیٹی اور دو بیٹوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز اوتھل سے کراچی جاتے ہوئے پاکستان آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر لاپتہ ہوگیا تھا۔آئی ایس پی آر کے مطابق ہیلی کاپٹر میں کورکمانڈر 12 کور سمیت 6 افراد سوار تھے اور ہیلی کاپٹر لسبیلہ میں فلڈ ریلیف آپریشن میں مصروف تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں