ڈی جی آئی ایس پی آر نے کور کمانڈر کوئٹہ سمیت 6 اہلکاروں کی شہادت کی تصدیق کر دی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کور کمانڈر کوئٹہ سمیت 6 اہلکاروں کی شہادت کی تصدیق کر دی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ہیلی کاپٹر حادثے میں لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی سمیت 6 افسران شہید ہو گئے۔ شہدا میں میجر جنرل امجد حنیف،برگیڈئیر محمد خالد، میجر سعید احمد،میجر محمد طلحہ منان اور نائیک مدثر فیاض شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ہیلی کاپٹر کو حادثہ خراب موسم کے باعث پیش آیا۔ہیلی کاپٹر کا ملبہ موسی گوٹھ وندر لسبیلہ سے ملا۔قبل ازیں ی آئی جی خضدار پرویز عمرانی کا کہنا تھا کہ پولیس کا حادثے کا شکار ہیلی کاپٹر کا ملبہ مل گیا۔

ہیلی کاپٹر کا ملبہ سسی پنوں مزار کے قریب موسی گوٹھ سے ملا ہے۔ گذشتہ روز پاکستان آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر لاپتہ ہو گیا تھا ۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ کور کمانڈر 12 کور لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی ہیلی کاپٹر پر سوار تھے، ڈی جی کوسٹ گارڈ میجر جنرل امجد سمیت دیگر 4 افسر بھی سوار تھے۔ہیلی کاپٹر سے رابطہ منقطع ہوئے کئی گھنٹے ہو گئے تھے، تلاش کا آپریشن مکمل ہو گیا ہے۔ ہیلی کاپٹر لسبیلہ میں سیلاب سے متعلق امدادی کارروائیوں پر تھا، دوران پرواز ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوا۔ہیلی کاپٹر سے فلڈ ریلیف سرگرمیوں کی نگرانی کی جا رہی تھی، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بتایا گیا کہ پاکستان آرمی ایوی ایشن کا ایک ہیلی کاپٹر جو لسبیلہ، بلوچستان میں سیلاب سے متعلق امدادی کارروائیوں پر تھا، اس کا ائیر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ترجمان پاک فوج کے مطابق کور کمانڈر 12 کور سمیت 6 افراد ہیلی کاپٹر میں سوار تھے، جو بلوچستان میں سیلاب سے متعلق امدادی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے تھے۔ ہیلی کاپٹر میں کور کمانڈر 12 کور لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کے ہمراہ ڈی جی کوسٹ گارڈ میجر جنرل امجد بھی سوار تھے۔ جس علاقے میں پاکستان آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر لاپتہ ہوا، اس علاقے میں سیلابی صورتحال ہونے اور دشوار گزار علاقہ ہونے کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں مشکلات کے باوجود سیکورٹی فورسز کے اہلکار ہیلی کاپٹر کی تلاش میں مصروف رہے۔

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button