پنجاب حکومت نے ڈی آئی جی آپریشنز کیپٹن (ر) سہیل چوہدری کو عہدے سے ہٹا دیا

لاہور (نیوز ڈیسک) آزادی مارچ میں عوام پر لاٹھی چارج اور تشدد کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کا آغاز ہو گیا۔ پنجاب حکومت نے ڈی آئی جی آپریشنز کیپٹن (ر) سہیل چوہدری کو عہدے سے ہٹا دیا جس کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔سہیل چوہدری کو سروسز ایڈمنسٹریشن گروپ میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔علاوہ ازیں ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ عثمان انور کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔پنجاب حکومت نے عثمان انور کی خدمات واپس وفاق کے حوالے کر دی۔قبل ازیں بتایا گیاکہ پنجاب میں حکومت تبدیل ہوئی تو بیوروکریسی کا مزاج بھی بدل گیا۔ تحریک انصاف اور اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کی نئی پنجاب حکومت میں بیورو کریسی نے پھرتیاں دکھانے شروع کردی ہیں۔

25 مئی کو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں رہنماوں،کارکنوں پرتشدد اور آنسو گیس کے استعمال کی رپورٹ طلب کر لی گئی۔آئی جی پنجاب نے پکڑ دھکڑ اور آنسو گیس کے استعمال پر سی سی پی او لاہور سمیت مختلف اضلاع کے آر پی اوز کو مراسلہ لکھ دیا۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنماوں اور کارکنوں پر دہشت گردی کے درج مقدمات کی رپورٹ بھجوائی جائے۔ بتایا جائے کہ پی ٹی آئی رہنماوں پر کتنے مقدمات درج اور کتنے لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ آئی جی پنجاب نے سی سی پی او لاہور سمیت دیگر اضلاع کے آر پی اوز سے رپورٹ مانگی ہے،اور سی سی پی او لاہور سمیت تمام اضلاع کے آر پی اوز کو رپورٹ بھجوانے کا حکم دیا گیا ہے۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ آزادی مارچ میں چھاپوں کے دوران پولیس کے پاس وارنٹ تھے؟لاہور،شیخوپورہ،اٹک اور حسن ابدال میں پولیس کا استعمال کیا گیا۔ مراسلے میں ہدایت کی گئی کہ متعلقہ اضلاع کے پولیس افسران رپورٹ آئی جی آفس میں بھجوائیں۔ آئی جی پنجاب کے مراسلے میں کہا گیا کہ یاسمین راشد،راشد خانم اور سینیٹر اعجاز چوہدری پر تشدد کیوں کیا گیا۔ لاہور پولیس اس کی الگ سے رپورٹ بھجوائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں