پاکستان واپسی پر بطورسینیٹر حلف اٹھاؤں گا، اسحاق ڈار

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء اور سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے اگلے مہینے وطن واپسی کی تصدیق کردی، انہوں نے کہا کہ پاکستان واپسی پر بطورسینیٹر حلف اٹھاؤں گا، وزیرخزانہ کا قلمدان سنبھالنے کا فیصلہ قیادت کا ہوگا، عمران نیازی نے جعلی مقدمہ دائر ہے، انٹرپول نےبرطانیہ میں کلین چٹ دی ہے۔انہوں نےلندن میں برطانوی خبررساں ادارے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگلے ماہ پاکستان واپسی کی تیاریوں میں مصروف ہوں، ڈاکٹرز چند روز میں علاج کے مکمل ہونے کے بارے میں پُرامید ہیں، پاکستان واپسی پر بطور سینیٹر حلف اٹھاؤں گا،

وزیرخزانہ کا قلمدان سنبھالنے کا فیصلہ قیادت کا ہوگا۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ مجھ پر ایک ہی کیس ہے جو عمران خان کی جانب سے کیا گیا، عمران نیازی کی جانب سے سیاسی بنیاد پر دائر کیا جانے والا مقدمہ جعلی ہے، ٹیکس ریٹرن جمع کرانے میں کبھی تاخیر نہیں کرتا۔یاد رہے دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف کے سابق وزیرخزانہ سینیٹراسحق ڈار کو جلد پاکستان بھجوانے کی درخواست پر پارٹی قائد نوازشریف نے انہیں ملک واپس بھجوانے کی منظوری دے دی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اسحاق ڈار وطن واپسی پربطور سینیٹر اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔ جبکہ مقدمات کا بھی سامنا کریں گے، مقدمات کے فیصلوں کو مدنظر رکھ کر وزارت خزانہ کے امور سنبھالیں گے۔لیکن اس دوران اسحاق ڈار حکومتی ٹیم کی وزارت خزانہ اور معاشی امور میں رہنمائی کریں گے، اسحاق ڈار کی حفاظتی ضمانت کیلئے وکلا جلد درخواست دائر کریں گے۔ یاد رہےکہ سابق وزیرخزانہ نومبر2017 میں علاج کی غرض سے لندن گئے تھے، سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کیخلاف مختلف مقدمات ہیں، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اثاثہ جات کی 22 سالہ تفصیلات جمع نہیں کرائیں، اثاثہ جات کا32 سال کا ریکارڈ پہلے ہی جمع کرا رکھا ہے۔گزشتہ روز پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں پتا کہ اسحاق ڈار وطن واپس آرہے ہیں، اسحاق ڈار کی وطن واپسی سے متعلق پارٹی سطح کا فیصلہ نہیں ہوا، پاکستان اسحاق ڈار کا ملک ہے، وطن واپسی ان کا حق ہے، اسحاق ڈار جب بھی واپس آنا چاہیں انہیں کوئی نہیں روک سکتا، عدالتی معاملات سے اسحاق ڈار خود آکر نمٹ لیں گے۔وزارت خزانہ کا فیصلہ وزیراعظم کا اختیار ہے جب بھی وہ فیصلہ کریں۔آئین کی رو سے پر وزیروزیراعظم کی خوشی تک ہی نوکری کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں