ہمارے خلاف غلط کیس بنے تو انہیں ختم کرنا این آر او نہیں،ہمارا حق ہے، رانا ثناء اللہ

لاہور (نیوز ڈیسک)ہمارے خلاف غلط کیس بنے تو انہیں ختم کرنا این آر او نہیں،ہمارا حق ہے-نیب قوانین میں 85 فی صد ترامیم وہی ہیں جو پچھلی حکومت خود منظور کر چکی تھی، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی گفتگو- تفصیلات کےمطابق وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ہمارے خلاف غلط کیس بنے تو انہیں ختم کرنا اور ان میں اپنی بے گناہی ثابت کرنا این آر او نہیں ہمارا حق ہے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نیب قوانین میں 85 فی صد ترامیم وہی ہیں جو پچھلی حکومت خود منظور کر چکی تھی۔ انہوں نےکہا کہ عمران خان کی حکومت نے دو

نمبر قانون سازی کی اور یہ دو نمبر جج لانا چاہ رہے تھے،موجودہ حکومت نے مونس الٰہی کو پہلے گرفتار کر کے بعد میں مقدمہ نہِیں کیا، وہ اپنی بے گناہی ثابت کریں۔ان کے خلاف میرٹ پر کیس بنے گا تو بنے گا ورنہ نہیں بنے گا۔ رانا ثناءاللہ نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے مقدمے میں 14روز میں ضمانت ہوتی تھی جبکہ پچھلی حکومت نیب کیسز میں نوے دن تک ملزمان کو جیل میں ڈمپ کردیتی تھی اور تفتیش نو دن بھی نہِیں ہوتی تھی۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء وسابق وزیر اطلاعات فواد چودھری نے نیب قوانین میں ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ آصف زرداری، نواز شریف، شہبازشریف ، مریم نواز سب نے این آر او ٹو لے لیا،آئی ایم ایف سے ان کی ڈیل نہیں ہورہی اس لئے مہنگائی ہے، ان کا وزیرخزانہ امریکی سفیرسے کہتاہے ہمارامعاہدہ کرائیں،انہیں کچھ سمجھ ہی نہیں آرہاکرناکیاہی ، پاکستان سری لنکا جیسی صورتحال کا متحمل نہیں ہوسکتا، عمران خان پاکستان کو جوڑنے کی علامت ہیں،ہمیشہ ملک کی بات کی ہے۔تحریک انصاف کے رہنما ء وسابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا آئی ایم ایف سے ان کی ڈیل نہیں ہورہی اس لئے مہنگائی ہے، ان کا وزیرخزانہ امریکی سفیرسے کہتاہے کہ ہمارامعاہدہ کرائیں۔ انہوں نے کہاکہڈر لگ رہاہے کہ یہ ملک کو کس طرف لیکرجائیں گی ،اتنے نالائق ہیں انہیں کچھ سمجھ ہی نہیں آرہاکہ کرناکیاہی ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان سری لنکا جیسی صورتحال کا متحمل نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہاکہخرم دستگیر نے کہا ہے کہ عمران

خان رہ جاتے تو وہ 100نئے ججز نیب میں لگا رہے تھے،خرم دستگیر نے اعتراف کیا کہ ہم نے احتساب سے بچنے کیلئے عمران خان کو باہر نکالا۔انہوں نے کہاکہ اس سے پہلے صدر اور وزیراعظم نے سپریم کورٹ کو خط لکھا تھاکہ سپریم کورٹ سے کہا تحقیقات کرائیں حکومت بدلنے کی وجوہات کیا تھیں۔نیب قوانین میں تبدیلی کے حوالے سے فواد چودھری نے کہا کہ یہ دوسرا این آراو ہے ، جو شریف اور زرداری فیملی ریاست سے لے رہی ہے، ہم پوچھ رہے تھے وجہ کیا ہے وجہ خرم دستگیر نے بتادی، انہوں نے پہلا این آراو مشرف سے لیا، دوسراریاست سے لے رہے ہیں، مشرف دور میں جتنے کیسز تھے،

این آر او ون کے تحت معاف ہوگئے۔انہوں نے کہاکہ آج پوری تحریک انصاف بلیک ڈے منارہی ہے، نیب قوانین میں ترامیم بدترین این آراوہے جس پر عملدرآمد ہوا ہے، نیب قوانین میں ترامیم سے خصوصاشریف،زرداری فیملی کو فائدہ پہنچایا گیا۔انہوں نے کہاکہ آپ کسی فردواحد کیلئے قانون سازی نہیں کرسکتے، قانون سب کیلئے برابر ہونا چاہئے، زرداری کے اکائونٹ سے 5ہزار کروڑ نکلے تو انہوں نے بتانا ہے کہ وہ کیسے آئے لیکن اب یہ سیکشن ختم کردیا یہ نیب پرڈال دیا گیا وہی بتائیں گے کہ کیسے آیا۔قوانین میں ترمیم بارے بات کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ بیرون ملک سے کوئی ثبوت کریٹ ہوا

اس پر نیب کچھ نہیں کرسکے گا، سیکشن 21جی کو انہوں نے تبدیل کردیا ہے، اب زرداری یا شریف فیملی اپنے ناموں پر اثاثے نہیں رکھیں گے، یہ لوگ دوسروں کے ناموں پر رکھتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ نیب قوانین کے سیکشن9میں ترمیم کی گئی ہے، مریم نواز کا ایون فیلڈ کا کیس بھی ختم ہورہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں