حکومت نےعوام پر ایک بار پھربجلی بم گرادیا،فی یونٹ قیمت میں بڑااضافہ کردیا گیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) نیپرا نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مزید مہنگی کرنے کی منظوری دے دی، صارفین کیلئے بجلی ایک روپے 55 پیسے فی یونٹ مہنگی کردی گئی ، جولائی سے ستمبر تک بجلی کے بل میں اضافی رقم لگ کر آئے گی۔ نیپرا نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے نام پر بجلی مزیدایک روپے 55 پیسے مہنگی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔اعلامیہ نیپرا میں بتایا گیا ہے کہ ، بجلی صارفین کیلئے بجلی کی قیمت میں ایک روپے 55 پیسے فی یونٹ اضافہ کردیا گیا ، جولائی سے ستمبر تک بجلی کے بل میں اضافی رقم لگ کر آئے گی، بجلی کی قیمت میں اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر نہیں ہوگا۔

دوسری جانب لیسکو انتظامیہ نے وزارت پاور ڈویژن کی ہدایات پر 5 روپے فی یونٹ ریلیف ختم کردیا ، ڈائریکٹر کسٹمر سروسز لیسکو نے اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ، جس کی وجہ سے بجلی کی قیمت میں مزید اضافہ ہوگا کیوں کہ آئندہ ماہ کے بجلی بلوں میں صارفین کو ریلیف نہیں ملے گا ۔ادھر نیپرا نے بجلی 42 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دے دی ہے ، قیمتوں میں اضافہ سرمائی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 3 ماہ کے لیے کیا گیا ہے ، صارفین سے 3 ماہ تک 42 پیسے فی یونٹ ہر ماہ وصول کیے جائیں گے ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی درخواست پر نیپرا نے سماعت کی ۔ خیال رہے کہ دو روز قبل ہی بجلی 3 روپے 99 پیسے فی یونٹ مہنگی کر دی گئی تھی ، جس کا نوٹی فکیشن بھی نیپرا نے جاری کیا ، صارفین کو جون کے بلوں میں ادائیگی کرنا ہو گی ، بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق ڈسکوز کے تمام صارفین ماسوائے لائف لائن صارفین پر ہو گا ، فیول پرائس ایڈجسمنٹ کا اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر نہیں ہو گا۔دوسری طرف ملک میں تیل اور بجلی مہنگی کرنے کے بیان پر وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دیگر وزراء وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل پر برس پڑے ، وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر غور کیا گیا ، ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اجلاس کے دوران وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو تیل اور بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کے بیانات پر اپنے ہی ساتھی وزراء کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ،

اس موقع پر ریاض پیرزادہ نے کہا کہ پہلے ہی مہنگائی زیادہ ہے، عوام کوس رہے ہیں مزید ظلم نہ کریں ، اس کے علاوہ بعض وزرا کی جانب سے قیمتیں بڑھانے کی بجائے دوسرے شعبوں سے ایڈجسٹمنٹ کی تجویز دی گئی۔معلوم ہوا ہے کہ کابینہ اجلاس میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ دوسرے شعبوں کی حالت بھی ابتر ہے ، اگر قیمتیں نہ بڑھائیں تو آئی ایم ایف پیسے نہیں دے گا ، آئی ایم ایف نے واضح کہا ہے سبسڈی ختم نہ کی تو قسط جاری نہیں ہوگی۔ہمارے ساڑھے 3 سال میں پیٹرول کی قیمت 50 روپے بڑھی، آئی ایم ایف نے ہمیں کہا تیل کی قیمتیں بڑھائیں لیکن ہم نے قیمتیں 10 روپے کم کی اور مہنگائی سے لوگوں کو تحفظ دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں