اشتعال انگیز اور دھمکی آمیز تقاریر کیس، کیپٹن صفدر کے لیے عدالت سے بُری خبر آگئی

گوجرانوالہ(مانیٹرنگ ڈیسک) اشتعال انگیز تقاریر کرنے کے الزام میں درج مقدمہ میں مسلم لیگ( ن) کے رہنما و سابق وزیر اعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر پر فرد جرم عائد کر دی گئی۔تفصیلات کے مطابق کیپٹن (ر) صفدر اعوان کے خلاف اشتعال انگیز اور دھمکی آمیز تقاریر کیس کی سماعت ہوئی۔ کیپٹن(ر) صفدر اعوان اور ایم پی اے عمران خالد پر فرد جرم عائد کر دی گئی۔ملزمان نے صحت جرم سے انکار کر دیا۔جوڈیشل مجسٹریٹ نے 20 جون کو گواہوں کو طلب کرلیا۔ کیپٹن (ر) صفدر اعوان کے خلاف تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن نے 2020 میں مقدمہ درج کیا تھا

واضح رہے کہ گوجرانوالہ میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن صفدر اور دیگر کیخلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ لیگی رہنماؤں کے خلاف مقدمہ تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کیا گیا جس میں لیگی ایم پی اے عمران خالد بٹ کو بھی نامزد کیا گیا۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے جمعہ کو عمران خالد بٹ کی رہائش گاہ پر میٹنگ کی تھی جس میں ریاستی اور انتظامی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز اور دھمکی آمیز الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔ لیگی رہنماؤں پر بغاوت کے مقدمے درج کرنے پر ناراضی کا اظہار کرنے والے سی پی او گوجرانوالہ کا تبادلہ بھی کیا گیا تھا۔ سٹی پولیس آفیسر(سی پی او) گوجرانوالہ رائے بابر سعید نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں پر بغاوت کے مقدمے پر تحفظات کا اظہارکیا تھا جس کے بعد ان کو عہدے سے ہٹا کر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔۔ پولیس ذرائع کے مطابق لیگی رہنماؤں پر بغاوت کے مقدمے پر سی پی او نے تحفظات کا اظہار کیا تھا سی پی او رائے بابر سعید بغاوت کیس میں 26 افراد کو شامل تفتیش کرنے کے مخالف تھے۔ یاد رہے کہ لاہور کے علاقے شاہدرہ میں بھی مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا جس پر سابق وزیراعظم عمران خان سمیت وفاقی وزراء نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں