دنیا کا کوئی ایسا ملک نہیں جو مہنگا پٹرول خرید کے سستا فروخت کرے، شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد (این این آئی)سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر مملکت برائے پٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک نے کہاہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں نہ بڑھاتے تو معیشت ڈوب جاتی، پاکستان کو بربادی و تباہی اور دیوالیہ ہونے سے بچانے کیلئے مشکل فیصلے کئے ہیں، دنیا کا کوئی ایسا ملک نہیں جو مہنگا پٹرول خرید کے سستا فروخت کرے، حکومت 40 ہزار روپے سے کم آمدنی والے افراد کو سبسڈی دے رہی ہے، سالانہ 2500 ارب روپے کی سبسڈی برداشت نہیں کر سکتے، معاشی استحکام اور استقامت حاصل کرنے میں کچھ ماہ لگیں گے،

روس سے سستے تیل کی خریداری کیلئے کوئی معاہدہ اور ایم او یو موجود نہیں ہے،عمران خان کی سبسڈی کی قیمت آج عوام مہنگے پٹرول کی صورت میں ادا کررہے ہیں، حکومت کے اقدامات سے روپیہ مستحکم ہو گا اور معیشت ترقی کرے گی۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے پٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف نے یہ فیصلہ کیا کہ عوام کو ریلیف دیئے بغیر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہو گا،ہم نے تین بار اس حوالے سے لائحہ عمل بنا کر دیا جسے وزیراعظم نے قبول نہیں کیا۔ اس وقت ہر 6 میں سے 4 خاندانوں کی آمدنی 37 ہزار روپے سے کم ہے،عمران خان ملک کو دیوالیہ ہونے کی طرف لے گئے، وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ نہیں کھیل سکتے تو کھیل ہی ختم کردیں گے۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف کے ساتھ لیوی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کا معاہدہ عمران خان نے کیا تھا،عمران خان کی سبسڈی کی قیمت آج عوام مہنگے پٹرول کی صورت میں ادا کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کو بربادی اور دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے مشکل فیصلے کئے گئے ہیں،ہر غریب خاندان کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے 2 ہزار روپے دیئے جا رہے ہیں،

40 ہزار روپے تک کی آمدنی والے غریب افراد کو سہولت دے رہے ہیں تاکہ وہ اپنی مرضی سے یہ رقم خرچ کر سکے۔ ہم نے لیوی اور سیلز ٹیکس نہیں بڑھایا،بوجھ حکومت خود بھی اٹھا رہی ہے اور باقی بوجھ تقسیم کیا جا رہا ہے،بڑی گاڑی والوں کو بھی کچھ بوجھ برداشت کرنا پڑے گا،ملک کے ٹکڑے ہونے کی سازش اور بربادی سے بچانے کے لئے مشکل اور اہم فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں۔ مصدق ملک نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) وہ جماعت ہے جس نے ملک کو 11، 12 ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار دی۔ ایل این جی کے 3 ٹرمینلز اپنے دور میں لگائے۔

انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پہ عمران خان کا معاہدہ آج بھی موجود ہے، آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لئے پٹرولیم مصنوعات کی جتنی قیمتیں بڑھانی وہ بڑھا دی ہیں،دیہی علاقوں میں زراعت اور شہری علاقوں میں صنعتوں سے مزدوروں کوروزگار حاصل ہوتا ہے اس لئے معاملات کو سوچ سمجھ کر طے کئے جاتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سابق حکومت ختم ہونے سے کچھ دن قبل ا س وقت کے وزیر توانائی نے ایک خط تحریری کیا تھا جس میں روس سے

تجارت کے فروغ اور پٹرولیم مصنوعات میں تجارت کی درخواست کی گئی تھی تاہم اس حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان نہ کوئی معاہدہ ہے اور نہ ہی کسی مفاہمت کی یادداشت پردستخط ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر 30 فیصد سستا تیل مل رہا تھا تو پی ایس او کے ٹینڈر میں کیوں نہ آتا۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو اس وقت کے وزیر توانائی کے خط کا کوئی جواب روس سے آیا اور ہمارے سفیر نے جب روس کے وزیر توانائی سے ملاقات کی تو انہوں نے اس حوالے سے کوئی جواب دیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ معاشی استقامت

اور استحکام بحال ہونے میں کچھ مہینے لگیں گے، عمران خان بارودی سرنگیں بچھا کے گئے ہیں، سابق حکومت کے دور میں ایل این جی اور تیل وقت پر نہیں خریدا گیا، انہوں نے خارجہ پالیسی بھی برباد کر دی اور بیرونی ممالک کے ساتھ تعلقات خراب کرکے رخصت ہو گئے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج نہ پٹرولیم مصنوعات پر لیوی ہے اور نہ سیلز ٹیکس ہے، قیمت خرید بھی پوری وصول نہیں کی جا رہی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھاتے تو معیشت ڈوب جاتی، مشکل فیصلے نہ کرنا اس وقت ملک اور عوام سے ناانصافی ہوگی،

دنیا کا کوئی ایسا ملک نہیں جو مہنگا پٹرول خرید کر سستا فروخت کرے، قرضے لے کر قیمتیں کم رکھی جائیں تو ملکی معیشت پر منفی اثرات پڑتے ہیں، حکومت پاکستان آج پٹرولیم مصنوعات پر ماہانہ رعایت دے رہی ہے، دنیا میں تیل کی قیمتیں تاریخی سطح پر ہیں، سالانہ 2500 ارب روپے کی سبسڈی برداشت نہیں کر سکتے، ہمارے دفاعی اخراجات 1700 ارب روپے ہیں جبکہ پوری حکومت 520 ارب روپے سے چلتی ہے، اس میں سے 30 سے 40 ارب روپے پٹرول کی مد میں خرچ ہوتے ہوں گے، انہیں کم کرنے کا معاملہ کابینہ کے سامنے رکھا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ برآمدی شعبہ کو ہمیشہ گیس فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ بین الاقوامی مارکیٹ سے مسابقت کر سکے، اسے بھی اب آدھا کر دیا گیا ہے، روس سے سستے تیل کی خریداری سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں پانچ ریفائنریاں ہیں، انہیں اگر سستا تیل ملے گا تو وہ کیوں نہیں خریدیں گی،یہ صرف باتیں ہیں، عملی طور پر اس میں کچھ بھی نہیں ہے، تیل کی قیمت خرید سے کم پر فروخت کرنا ممکن نہیں، ماضی میں پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس تھا، آج حکومت کو پٹرولیم مصنوعات

سے کوئی آمدنی حاصل نہیں ہوتی، عالمی منڈی میں اگر تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو ہمیں بھی بڑھانا پڑیں گی۔ ہفتہ کی تعطیل کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وزیراعظم نے ہفتے میں زیادہ کام کیلئے چھ دن کام کا فیصلہ کیا تھا، وہ اس پر اب نظرثانی کرتے ہیں تو دیکھیں کہ اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے کیونکہ ایک طرف کام ہے تو دوسری طرف اخراجات میں کچھ کمی آئے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں