آٹا، دالیں، چاول، تیل، پیاز، گوشت، چکن اور انڈوں سمیت متعدد اشیا کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) حکومت کے بلند وبانگ دعوؤں کے باوجود ملک میں مئی کے دوران مہنگائی کی شرح تقریباً اڑھائی سال کی بلند ترین سطح پر 13.76 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق نقل و حمل اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے. اپریل میں مہنگائی کی شرح 13.37 ہوگئی تھی جس میں مئی کے دوران ماہانہ بنیادوں پر 0.44 فیصد مزید اضافہ ہوا یہ جنوری 2020 کے بعد سب سے زیادہ کنزیومر پرائس انڈیکس کی مہنگائی ہے، اس وقت افراطِ زر 14.6 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی.

وفاقی ادارہ شماریات نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح میں 12.36 فیصد اور دیہی علاقوں میں 15.88 فیصد اضافہ ہوا مہنگائی میں سب سے زیادہ اضافہ ٹرانسپورٹ کی وجہ سے ہوا جس کے نرخ 31.77 فیصد بڑھے، اس کے بعد خوراک کی قیمتوں میں 17.25 فیصد اضافہ ہوا. پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق خراب ہونے والی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں 26.37 فیصد اور نہ خراب ہونے والی اشیا کی قیمتوں میں 15.94 فیصد اضافہ ہوا دیگر زمروں میں جن اشیا کی قیمتوں میں دوہرے ہندسے کا اضافہ دیکھا گیا ان میں فرنشننگ اور گھریلو دیکھ بھال کا سامان 16.11 فیصد، ریسٹورنٹس اور ہوٹل 15.98 فیصد، متفرق اشیا اور خدمات 13.32 فیصد، تفریح اور ثقافت 12.28 فیصد، کپڑے اور جوتے 11.29 فیصد، صحت 10.59 فیصد، الکوحل والے مشروبات اور تمباکو 10.13 فیصد شامل ہیں.شہری علاقوں میں پیاز 36.17 فیصد، چکن 16.98 فیصد، انڈے 13.07 فیصد، آٹا 10.51 فیصد، بیسن 6.68 فیصد، دال مسور 5.96 فیصد، گوشت 3.98 فیصد، چاول 3.40 فیصد، دال ماش 2.43 فیصد، گندم 2.06 فیصد سرسوں کا تیل 1.93 فیصد مہنگا ہوا. دیہی علاقوں میں پیاز کی قیمت 28.60 فیصد، چکن 17.73 فیصد، انڈوں 1.48 فیصد، بیسن 8.33 فیصد، آلو 6.95 فیصد، آٹا 5.28 فیصد، سرسوں کا تیل 5.16 فیصد، دال مسور 4.56 فیصد، گوشت 3.13 فیصد، دال چنا 2.79 فیصد، دال ماش 2.48 فیصد، چاول 2.33 فیصد اور دودھ کی قیمت میں 2.05 فیصد اضافہ ہوا.

وزارت خزانہ نے گزشتہ ہفتے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں گزشتہ مالی سال کے دوران پائیدار نمو کے حصول میں ملک کو درپیش چیلنجز میں سے بلند بیرونی خسارے، شرح مبادلہ کی قدر میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال جیسے دیگر عوامل کے ساتھ تیزی سے بڑھتی افراط زر کو نمایاں کیا تھا. رپورٹ میں بتایا گیا کہ افراط زر میں اضافے کا بنیادی سبب اشیا کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافہ اور شرح مبادلہ میں نمایاں کمی تھی درحقیقت ڈالر اور پاکستان کے اہم تجارتی شراکت داروں کی کرنسیوں کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی بنیادی طور پر ملک اور اس کے شراکت داروں کے درمیان افراط زر کے فرق کی عکاسی کرتی ہے مزید برآں نسبتاً بلند مقامی افراطِ زر میں روپے کی قدر کی کمی نے مزید اضافہ کیا.

واضح رہے کہ وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ میں پیٹرولیم مصنوعات‘بجلی‘پانی‘گیس اور دیگر یوٹیلٹیزکی بلو ں میں ہونے والے ہوباشربا اضافے کو شامل نہیں کیا جاتا اگر ان بنیادی ضروریات کو بھی رپورٹ میں شامل کیا جائے تو یہ اضافہ دوگنا سے بھی زیادہ بنتا ہے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے مئی کے بلوں میں اضافی یونٹس ڈالنے کی شکایات عام ہیں اور لیسکو سمیت دیگر تقیم کار کمپنیاں اپنے جون میں اپنے ”نقصانات“کو پورا کرنے کے لیے مئی کے بلوں میں ہر سال صارفین سے اربوں روپے اضافی وصول کرتی ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں