سپریم کورٹ کا پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاریوں اور راستوں کی بندش سے متعلق تحریری فیصلہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاریوں اور راستوں کی بندش کا تحریری فیصلہ جاری کردیا، عدالت عظمیٰ کو مایوسی ہوئی کہ عدالتی فیصلے کا احترام نہیں کیا گیا، رپورٹ دی جائے کہ کتنے مظاہرین ریڈزون میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے؟ عدالت نے کاروائی کیلئے ڈی جی آئی ایس آئی ودیگر اعلیٰ حکام سے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی۔ سپریم کورٹ نے اسلام آباد بار کی درخواست نمٹانے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے، 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جاری کیا ،

عدالتی کاروائی کا مقصد دونوں فریقین کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا تھا، لانگ مارچ کی صورتحال ختم ہوگئی، سڑکیں کھل گئیں اور پٹیشن غیرمئوثر ہوگئی ہے۔عدالت عظمیٰ کو مایوسی ہوئی کہ عدالتی فیصلے کا احترام نہیں کیا گیا ۔ریڈزون کی سیکیورٹی کے انتظامات کیا تھے؟ اور ایگزیکٹو حکام کی جانب سے سکیورٹی انتظامات میں کیا نرمی کی گئی؟ کیا سیکیورٹی بیریئرز کو توڑا گیا؟ کیا پارٹی ورکرز اور مظاہرین جی نائن اور ایچ نائن گراؤنڈ میں گئے؟ کتنے مظاہرین ریڈزون میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے؟ اس حوالے سے عدالت نے ایک ہفتے میں ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی آئی بی، سیکرٹری داخلہ، آئی جی اور چیف کمشنر اسلام آباد سے جواب طلب کیا ہے، اس پرجج صاحبان رپورٹ کا جائزہ اپنے چیمبر میں لیں گے اور پھر کاروائی آگے بڑھائے گی۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ لکھا جس کے تحت سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے، عمران خان نے 25 مئی کو عدالتی احکامات کو نہیں مانا، عمران خان نے اپنے کارکنان کو ڈی چوک پہنچنے کا کہا، میں اس بات سے آمادہ نہیں کہ عمران خان کے خلاف کاروائی کیلئے عدالت کے پاس مواد موجود نہیں، عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے مزید لکھا کہ عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیلئے کافی مواد موجود ہے، میری رائے میں عمران خان نے عدالتی احکامات کی حکم عدولی کی، عمران خان کے بیان کی ویڈیو سپریم کورٹ میں چلائی گئی، عمران خان سے پوچھا جائے کیوں نہ آپ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں