رانا ثناءاللہ، شہبازشریف کو ماڈل ٹاؤن کیس میں سزا ہوتی تو آج پولیس یہ کچھ نہ کرتی،عمران خان

پشاور(نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ رانا ثناءاللہ اورشہبازشریف کو ماڈل ٹاؤن کیس میں سزائیں ہوجاتیں تو آج پولیس یہ کچھ نہ کرتی، ماڈل ٹاؤن میں نہتے لوگوں پر گولیاں چلائیں گئیں، طاہرالقادری کے ساتھ جو کچھ کیا گیا اسے سبق سکھایا گیا تھا۔ انہوں نے پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نیب قوانین میں ترمیم کا معاملہ اور چیئرمین نیب کی تعیناتی بھی عدالت میں چیلنج کریں گے، عدالت میں اوورسیز پاکستانیوں کی ووٹنگ کے خاتمے کو چیلنج کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اوورسیزپاکستانیوں کی ووٹنگ ختم کرنے کیخلاف عدالت جارہے ہیں، شریفوں کے گھر میں ہونے والے فیصلے ہم پر مسلط کر دیئے جاتے ہیں، ہمارا اولین مطالبہ الیکشن کی تاریخ ہے، میں کوئی جنگ تو نہیں چاہتا صرف الیکشن کا مطالبہ کر رہا ہوں، مذاکرات کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے، صاف وشفاف الیکشن کی طرف پہنچنے کیلئے بات چیت کیلئے تیار ہوں، ہم شریف خاندان کو اچھی طرح جانتے ہیں، طاہرالقادری کے ساتھ جو کچھ کیا گیا اسے سبق سکھایا گیا تھا۔انہوں نے پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا 26 سال کا ریکارڈ ہے کبھی انتشار کی سیاست نہیں کی۔ حکومت نے جیسے حربے استعمال کیے ہر فورم پر معاملہ اٹھائیں گے۔ انہوں نے پرامن احتجاج پر شیلنگ کی۔ ہم نے کبھی انتشار کی سیاست نہیں کی۔ کراچی میں ایم کیو ایم کا دور تھا ہمیں کہا گیا کہ پارٹی میں ملٹنٹ ونگ بنائیں، مسلح ونگ نہیں بنائیں گے تو کراچی میں پارٹی نہیں چلے گی۔ہم نے فیصلہ کیا تھا پارٹی میں عسکری ونگ نہیں بنائیں گے۔عسکری ونگ بعد میں پارٹی پر حاوی ہو جاتا ہے۔ ہماری واحد جماعت ہے جس کی کوئی عسکری ونگ نہیں۔قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم یہ احتجاج کیوں کر رہے ہیں کیونکہ 22 کروڑ عوام کے سربراہ کو سازش کے تحت ہٹایا گیا

کیونکہ وہ آزاد خارجہ پالیسی کی بات کر رہا تھا،یہ سازش قومی سلامتی میں ثابت ہوئی۔یہ سازش 6 ہفتے میں ثابت بھی ہو گئی ، حکومت کو 6 ہفتے ہوئے بھی نہیں اور انہوں نے پٹرول کی قیمت میں 30 روپے اضافہ کر دیا،دوسری جانب بھارت ابھی بھی روس سے سستا تیل خریدا اور لوگوں کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔حماد اظہر نے روس سے سستا تیل لینے کا معاہدہ بھی شئیر کیا تھا۔عمران خان نے کہا کہ بھارت کی آزاد خارجہ پالیسی تھی اس لیے روس سے سستا تیل خرید رہا ہے۔جہاں سے سستا تیل مل رہا تھا وہاں بیرونی آقاؤں کے خوف سے نہیں خریدا۔

امریکی اور آئی ایم ایف کے دباؤ پر پٹرول کی قیمت بڑھائی۔عمران خان نے کہا کہ ہم امپورٹڈ حکومت کو نہیں مانیں گے،میں اپنی جان دے دوں گا لیکن ان کی حکومت نہیں مانوں گا۔لوگوں کو ابھی سے تیاری پر لگا دیا کہ وہ اپنے حلقوں میں جا کر احتجاج کی تیاری کریں۔ میں دوبارہ آؤں گا اور پوری تیاری کے ساتھ آؤں گا۔سپریم کورٹ میں بھی پیر کو پٹیشن لے کر جا رہے ہیں۔پٹیشن میں پوچھیں گے کہ ہمیں پر امن احتجاج کا حق ہے یا نہیں۔سپریم کورٹ سے پوچھیں گے دوبارہ احتجاج میں بھی پکڑ دھکڑ ہو گی۔پولیس افسران کو بھی عدالت لے جائیں گے،

جو انہوں نے کیا سوشل میڈیا پر ان کی شکلیں دکھائیں گے۔آئی جی اسلام آباد اور ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے،6 دن کے بعد بھرپور تیاری کے ساتھ اسلام آباد آئیں گے۔ہم نے 126 دن کا پرامن دھرنا دیا۔ جنہوں نے درختوں کو آگ لگائی وہ ہمارے لوگ نہیں تھے، پی ٹی آئی پر حملہ کیس بھی فراڈ ہے وہ لوگ ہمارے نہیں تھے۔ہمیں بتایا جائے کیا ہم عورتوں اور بچوں کے ساتھ انتشار پھیلانے آ رہے تھے۔عمران خان نے مزید کہا کہ ملک بچانے کا ٹھیکہ صرف ہم نے نہیں لیا،اداروں کی بھی ذمہ داری ہے۔ ملک تباہ ہوا تو سب ذمہ دار ہوں گے جنہوں نے اجازت دی،ملک تباہ ہو رہا ہے اور ادرے تماشہ دیکھ رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں