چھ دن کے بعد کیا کروں گا؟ عمران خان کا بڑااعلان ، کارکنوں کو خاص ہدایات جاری

اسلام آباد ( نیوز ڈیسک )پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے6 روز میں احتجاج کی تیاری کرنے کی ہدایت کردی، چھ دن کے مہلت کے بعد قوم کو باہر نکالوں گا، سپریم کورٹ سے تحفظ مانگتے ہیں جو ہمارا حق ہے،تشدد کے احکامات دینے والے بیورکریسی اورافسران جوابدہ ہوں گے۔ انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کہتا ہے کہ بھکاری ہیں اس لیے غلامی قبول کرنی پڑے گی،میرا فیصلہ ہے میں ان کو قبول نہیں کروں گا، 6 دن کی مہلت ہے ، قوم کو پھر باہر نکالوں گا، ساری قوم چھ دنوں میں تیاری کرلے،

سپریم کورٹ سے تحفظ مانگتے ہیں جو ہمارا حق ہے، ہم نے مذاکرات کے لیے دروازے کھلے رکھیں، ہم جنگ کے لیے نہیں آرہے تھے، پرامن احتجاج حق تھا، سازش میں کون ملوث تھا، سب جانتے ہیں، تشدد کے احکامات دینے والے بیورکریسی اورافسران جوابدہ ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح لاہور کے لبرٹی چوک پر آنسو گیس کا استعمال کیا گیاجس طرح کا تشدد کراچی میں کیا گیا کونسی ملک کی پولیس سے اس طرح کے کام کرواتے ہیں؟انہوں نے کہا کہ ہم چھ دن دے رہے ہیں اگر انہوں نے واضح طور پر انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کیا اور اسمبلیاں تحلیل نہ کیں تو میں پھر سے نکلوں گا اور اب ہم تیاری کر کے نکلیں گے ہم اس وقت جب نکلے تو ہماری کوئی تیاری نہیں تھی پولیس کے تماشے دیکھ کر ہمارے لوگ غصے میں تھے. عمران خان نے کہا کہ ہمیں سرینگر ہائی وے پر احتجاج کی اجازت نہیں مل رہی تھی اس لیے ہم نے اپنے کارکنان کو ڈی چوک پر جمع ہونے کا کہا تھا کیونکہ ہم نے اپنے کارکنان کو کہیں تو جمع کرنا تھا تاہم ہمیں ڈی چوک پہنچنے میں تاخیر ہوئی جس کی وجہ انتظامیہ کی جانب سے کھڑی کی گئی رکاوٹیں تھیں.انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے کارکنان کا جذبہ 20 گھنٹے دیکھتا رہا جس پر میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں اسلام

آباد میں تو عام لوگ گھروں سے نکلے ہوئے تھے جن پر انتظامیہ کی جانب سے شیلنگ کی گئی شیلنگ کے باوجود لوگ آتے گئے اور خواتین بھی کھڑی رہیں عمران خان نے کہا کہ میں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھا ہے جس میں پوچھا ہے کہ کیا ہمیں احتجاج کرنے کا حق ہے کہ نہیں وہ بھی ان چوروں کے خلاف اسمبلیوں میں اس وقت ہونے والا ڈرامہ غیر قانونی ہے.انہوں نے کہا کہ میں عدلیہ سے سوال کرتا ہوں کہ کیا ہم بھیڑ بکریوں کی طرح حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کو مان لیں ؟ اس طرح ملک میں انتشار پھیلے گا

بسوں سے جس طرح وکیلوں اور عورتوں کو نکال کر مارا گیا ایسا تو پہلے کبھی نہیں ہوا قوم کو پتہ چل جانا چاہیے کہ کون حق پر ہے اور کون ظلم کر رہا ہے. عمران خان نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے دباؤ میں آ کر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 30 روپے کا اضافہ کر دیا اتنا بڑا اضافہ کبھی بھی نہیں ہوا تھا بیرونی طاقتیں چاہتی ہی نہیں کہ پاکستان اپنے قدموں پر کھڑا ہو حالانکہ ہم پر بھی آئی ایم ایف کا دباؤ تھا.انہوں نے کہا کہ یہ حکومت تو بیرونی دباؤ برداشت ہی نہیں کر سکتی اور اب پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد مزید مہنگائی

بڑھے گی اور ملک میں بدامنی پھیلے گی اور قوم میں ملک سے بددلی پھیلے گی یہ ہمیں بھی سری لنکا جیسے صورتحال کی طرف دھکیل رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم سب کی مشاورت سے روس گئے تھے اور ان سے پیٹرول خریدتے تھے ہمیں پیٹرول سستا ملتا بھارت آزاد قوم ہے انہیں اجازت ہے روس سے معاہدے کرنے کی لیکن ہمارے روس جانے سے امریکہ ناراض ہو گیا انہوں نے کہا کہ میری امپورٹڈ حکومت سے جنگ یہ ہے کہ میں غلامی قبول نہیں کر سکتا آئی ایم ایف کو امریکہ کنٹرول کرتا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں