عمران خان کے اسلام آباد میں داخل ہوتے ہی حکومت نے ریڈ زون میں فوج طلب کرلی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اسلام آباد میں پولیس نے ڈی چوک پہنچنے والے پی ٹی آئی کے کارکنان کو شیلنگ کر کے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا جبکہ شرکا نے جواب میں پولیس پر شدید پتھراؤ کیا جبکہ وزارت داخلہ نے ریڈ زون میں پاک فوج کے دستوں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی کال پر پی ٹی آئی کے کارکنان اور عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلے، جو رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہیں، شرکا کو روکنے کے لیے انتظامیہ بھی متحرک نظر آئی جس کے باعث کراچی، لاہور، راولپنڈی میں تصادم بھی ہوا۔

پنجاب پولیس نے پی ٹی آئی کی دو خاتون رہنماؤں یاسمین راشد اور عندلیب عباس کو گرفتاری کے کچھ ہی دیر بعد رہا کردیا علاوہ ازیں سابق وفاقی وزیر حماد اظہر آنسو گیس کا شیل لگنے سے معمولی زخمی بھی ہوئے۔لاہور پولیس کی جانب سے تحریک انصاف کے رہنماء حماد اظہر کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تاہم کارکنان نے کوشش کو ناکام بناتے ہوئے انہیں باحفاظت گاڑی تک پہنچایا۔دوسری جانب وزارت داخلہ نے ریڈ زون میں پاک فوج کے دستوں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے پاک فوج کے دستوں کی تعیناتی کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔نوٹی فکیشن کے مطابق پاک فوج کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وفاق میں پاک فوج کی تعیناتی کی منظوری حساس عمارتوں کی نگرانی کی لیے دی گئی۔نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ ریڈ زون میں سپریم کورٹ،ایوان صدر وزیر اعظم ہاوس، وزیر اعظم آفس موجود ہیں، پاک سیکرٹریٹ، پاکستان ٹیلی ویژن اور ڈپلومیٹک انکلیو شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں