عمران خان میرجعفر اور میرصادق مریم نواز یا شہبازشریف کو نہیں بلکہ یہ دھمکی اسٹیبلشمنٹ کو دیتا ہے،مریم نواز

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران خان لانگ مارچ حکومت نہیں اسٹیبلشمنٹ کیخلاف کررہا ہے،یہ میر جعفر اور میرصادق مریم نواز یا شہبازشریف کو نہیں بلکہ یہ دھمکی اسٹیبلشمنٹ کو دیتا ہے، وزیراعظم اور وزیرداخلہ کو کہا کہ عمران خان کو گرفتار نہ کریں، دیکھیں تو اس میں کتنا دم ہے، تم پھنس گئے ہو۔انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ لا نگ مارچ کے مقاصد میں کوئی شک کی گنجائش نہیں ہے، آج قانون نافذ کرنے والے ادارے کے سینے پر گولی چلا کر بتا دیا ہمارے ارادے کیا ہیں؟

حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو تحفظ فراہم کرے ، لانگ مارچ کرنے والوں کے پاس آنسو گیس کے شیل، ڈنڈے، اسلحہ سب کو جمع کررکھا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ کریں ، ان کو ماریں، خون کا کھیل کھیلیں، جب یہ حکومت سے نکالے گئے جب کرسی گئی تو انہوں نے جھوٹے خط کا ڈرامہ کیا، سازش کا ڈرامہ کیا، پھر قتل کی سازش والا ڈرامہ کیا، جب ہر طرح سے فیل ہوگئے تو پھر حالات خراب کرنے پر اتر آئے۔آج کہہ رہے تھے ملک سری لنکا بن جائے گا، یہ ملک سری لنکا نہیں بنے گا، اس کو سری لنکا بنانے کی کوشش آپ کررہے ہیں، آج جو بچہ شہید ہوا اس میں اور مریم ،حمزہ ، سلمان ، قاسم میں کیا فرق ہے؟ فرق یہ ہے کہ قاسم اور سلمان باہر رہیں گے جب کہ یہاں قوم کے بچے سینوں پر گولیاں کھائیں گے۔ انقلاب گھر سے شروع ہوتا ہے، کوئی بھی تحریک جہاد ہو تو گھر سے شروع ہوتا ہے، اپنے بچوں کو لندن میں بٹھایا ہوا ہے جبکہ قوم کے بچوں کو سخت گرمی لو میں نکال رہے ہیں، اپنے دونوں بیٹوں کو کہو کہ فرنٹ پر لیڈ کریں، آپ کے بچے تاج برطانیہ کے حلف کا گلے سے طوق اتار کرپاکستان آئیں، برٹش پاسپورٹ چھوڑیں اور پاکستان آئیں، میں نے پی ڈی ایم کی تحریک لیڈ کی، میں عورت ہوں، چوڑیاں نہیں پہنی

ہوئی، نیب کے دفتر میں عمران خان نے پتھراؤ کرایا تو میں نے کارکنوں کو آگے نہیں کیا کہ میں خود آگے کھڑی تھی، آزادی کی تحریک ہے تو اپنے بچوں کو بھی کہو وہ بھی آکر آزادی کی تحریک میں حصہ لیں، سی این این کو انٹرویو بڑامتوازن دیا اور کوئی سازش کا ذکر نہیں کیا، اگر ہمت تھی تو بتاتے کہ امریکا سازش کررہا ہے، وہاں بتایا کہ جوبائیڈن انتظامیہ رابطہ نہیں کررہی تھی، فون نہیں کیا، وہاں بھیگی بلی بنے بیٹھے ہوئے تھے،آپ کو صرف امریکا نہیں آپ کو کوئی ملک بھی منہ نہیں لگاتا تھا، ان کو پتا تھا آہ جعلی وزیراعظم ہیں،

آپ نے خارجہ پالیسی کا شیرازہ بکھیر دیا، ایک ملک جاتے دوسرے کی چغلی کرتے، پاکستان کے دوستوں کو دشمنوں کی صف میں دھکیل دیا۔انہوں نے کہا کہ عوام کو ضرورت نہیں کہ آپ کی جھوٹی مہم کا حصہ بنیں، کون سی آزادی ؟ آزادی کا نام کرسی یا فرح گوگی رکھا ہوا۔اب اداروں کو دھمکاتے ہیں، جب اپنی حکومت تھی تو کہتے چیف سے زیادہ کوئی نیوٹرل نہیں ، جب کرسی گئی تو کہتا نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے، کل کہا کہ فوج نیوٹرل رہے، جب آپ کی فنڈنگ کے ثبوت مل گئے تو آپ نے الیکشن کمیشن پر حملے شروع کردیے، جب ای سی پی

نے ارکان کو ڈی سیٹ کیا تو تعریف اب پھر الیکشن کمشنر پر تنقید ، عدالت جب رات کو کھلی تو آپ نے تنقید کی، جب وزیراعظم کے خلاف سوموٹو لیا تو اس روز سے عدالتیں اچھی ہوگئیں، عدالتوں کو چاہیے قوم اور آئین قانون کے حق میں فیصلے کریں۔جب کہتا ہے میر جعفر اور میرصادق کے چہرے پہچان لیئے ہیں تو وہ کیا مریم نواز یا شہبازشریف کو کہتا ہے یہ دھمکی اسٹیبلشمنٹ کو دیتا ہے،عمران خان لانگ مارچ حکومت نہیں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کررہا ہے، عمران خان نے دھمکی ہمیں نہیں اسٹیبلشمنٹ کو دی ہے، وزیراعظم اور وزیرداخلہ کو کہا کہ عمران خان کو گرفتار نہ کریں، دیکھیں کتنا دم ہے، پہلے کہتا تھا نیوٹرل جانور ہوتا ہے کل کہا آپ نیوٹرل رہیں۔حمزہ شہبازوزیراعلیٰ نہیں تو کیافرح گوگی، احسن نوید گجر یا بزدار چیف منسٹر ہے؟حمزہ شہبازہی منتخب چیف منسٹر ہے، وزیراعظم شہبازشریف ہے، خوابوں کی دنیا سے باہر آجاؤ، اب تمہارے فرمانوں اورحکم کے مطابق فیصلے نہیں ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں