ٹرمپ انتظامیہ سے اچھے تعلقات تھے لیکن بائیڈن انتظامیہ نے سردمہری کا رویہ رکھا، عمران خان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دورہ روس پہلے سے شیڈول تھا، ہمیں فوجی سازوسامان خریدنا تھا، دورہ روس کو اینٹی امریکا تاثر دیا گیا،کسی کو معلوم نہیں تھا یوکرین پر حملہ ہوجائے گا،روس سے ہمیں فوجی سازوسامان خریدنا تھا، گندم ،تیل پر بات کرنا تھی، دوے سے متعلق ہماری قیادت آن بورڈ تھی۔انہوں نے امریکی ٹی وی چینل سی این این کو اپنے انٹرویو میں بتایا کہ امریکا نے ایران ، جنوبی امریکی ممالک میں رجیم کرائی ، امریکا ماضی میں کئی ممالک میں رجیم چینج میں ملوث رہا۔رجیم چینج سے عوام بہت غصے میں ہے۔

عمران خان نے سائفر سے متعلق بتایا کہ امریکی عہدیدار نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو معاف کردیا جائے گا،اگلے ہی دن میرے خلاف پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد آگئی، سائفر میں 22 کروڑ عوام کے منتخب وزیراعظم کو ہٹانے کی دھمکی دی گئی، سائفر کو کابینہ میں پڑھ کر سنایا گیا، پھر قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں لے جایا گیا، جہاں پر سروسز چیفس بھی موجود تھے، قومی سلامتی کمیٹی نے اس کو مداخلت قرار دیا اور احتجاج کا فیصلہ کیا۔اسی طرح سائفر چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کو بھی بھیجا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بہترین تعلقات چل رہے تھے، بائیڈن انتظامیہ آئی تو سرد مہری کا رویہ رکھا گیا، بائیڈن کے آفس میں آتے ہی افغانستان کا معاملہ ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے 22 کروڑ عوام نے مجھے منتخب کیا، میری پہلی ذمہ داری پاکستان کے عوام ہیں، 15ملین لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں، روس ہمیں 30 فیصد سستی گندم اور تیل دے رہا تھا، میرے دورہ روس کو اینٹی امریکا تاثر دیا گیا، انڈیا امریکا کا اسٹرٹیجک اتحادی ہے لیکن وہ امریکا کا اتحادی ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے ایک سوال پر جواب دیا کہ ڈونلڈ لو اور پاکستانی سفیر کی ملاقات سے پہلے امریکن ایمبیسی میں میری جماعت کے بعض ارکان کوسے ملاقاتیں ہوئیں، وہ ملاقاتیں کیوں کررہے تھے؟ جس کے بعد میر ی جماعت کے ارکان نے کروڑوں روپے لے کر وفاداری تبدیل کی، ڈونلڈ لو کو برطرف کرنا چاہیے۔ انہوں نے موجودہ حکومت کی 60 فیصد کابینہ ضمانتوں پر ہے، کسی کو معلوم نہیں تھا کہ روس

جاؤں گا تو یوکرین پر حملہ ہوجائے گا،روس سے ہمیں فوجی سازوسامان خریدنا تھا اور تیل پائپ لائن پر بات کرنا تھی، دورہ روس سے متعلق ہماری قیادت آن بورڈ تھی۔انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ آئندہ حکومت سے متعلق کوئی پیشگوئی نہیں کرسکتا، لیکن ہم اگلے الیکشن میں حصہ لیں گے ہماری جماعت ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے، الیکشن میں سب سے بڑی جماعت بن کر آئیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں