اسلام آباد ہائیکورٹ نےعدالت کی اجازت کے بغیر صحافیوں کی گرفتاری سے روک دیا

اسلا م آباد (نیوز ڈیسک)ارشد شریف کی تمام ایف آئی آرز کو کلب کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔عدالت نے آئندہ سماعت تک ارشد شریف اور سمیع ابراہیم کو گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ معاملے پر فیڈریشن کی طرف سے ایف آئی آر درج ہیں۔وکیل نے بتایا جی نہیں عام شہری کی طرف سے ایف آئی آر درج ہیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ایف یو جے کو معاون مقرر کر دیا۔چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ کوئی پاکستانی غدار نہیں ہو سکتا۔ارشد شرف کی گرفتاری مطلوب ہے تو اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کریں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کی بغیر اجازت کوئی ارشد شریف کو گرفتار نہ کرے۔ عدالت نے ارشد شریف کی درخواست پر سیکرٹری داخلہ سے رپورٹ طلب کر لی۔قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نے رات کو عدالتیں کھولنے کے تناظر میں عدلیہ مخالف مہم کےمعاملہ اور صحافی ارشد شریف کی ایف آئی اے کی جانب سے ہراساں کرنے کے خلاف درخواست میں ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو آئندہ سماعت پر مجاز افسر عدالت بھیجنے کی ہدایت کردی۔جمعرات کے روز سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیاکہ اے آر وائی کی جانب سے کوئی آیا ہے؟، جس پر بتایاگیاکہ اے آر وائی کی جانب سے کورٹ رپورٹرز شاہ خالد اور جہانگیر بلوچ عدالت پیش ہوئے،عدالت نے ایف آئی اے حکام سے استفسار کیاکہ یہ آپ کیوں ان کو ہراساں کر رہے ہیں ؟جس پر ایف آئی اے حکام نے کہاکہ ہراساں نہیں کر رہے ،عدالت نے سماعت میں وقفہ کردیاجس کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہونے پر عدالت نے ارشد شریف سے استفسار کیاکہ ابھی تو آپ کو کوئی ہراساں نہیں کررہا؟،صابر شاکر بیرون ملک ہیں اور ان کو خدشہ ہے کہ واپسی پر ان کو گرفتار کیا جا سکتا ہے،چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کیا ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہے؟، جس پر ڈائریکٹر ایف آئی اے نے بتایاکہ ایف آئی اے کے پاس ابھی تک بیوروچیف اے آر وائی کے خلاف کوئی کمپلینٹ نہیں،چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کو اگر گرفتاری کا خدشہ ہے تو اس حوالے سے الگ پٹیشن دائر کر دیں، ہم ذمہ دار قوم کب بنیں گے؟،

صحافی شہزادہ غفار نے کہاکہ جب پولیٹیکل پارٹیز ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گی،چیف جسٹس نے کہاکہ فواد چودھری، آپ اس طرح کریں کہ نو اپریل کے چار گھنٹے کی ٹرانسمیشن دیکھیں،اس دن تو تجزیہ کاروں نے مارشل لاء ہی نافذ کر دیا تھا، میڈیا آرمی کی گاڑیاں اور ہیلی کاپٹر دکھا رہا تھا،چیف جسٹس نے کہاکہ میں گھر بیٹھا اور خبر چلی کہ چیف جسٹس عدالت پہنچ گئے،ارشد شریف صاحب، اب آپ مطمئن ہیں؟، سینئر صحافی افضل بٹ نے کہاکہ ان کو ابھی خطرہ ہے کہ کسی بھی وقت اٹھایا جا سکتا ہے،ہم چاہتے ہیں کہ پٹیشن نمٹانے کے بجائے پینڈنگ رکھی جائے تاکہ ہماری بھی تسلی رہے،شہزادہ غفار نے کہاکہ ہر حکومت ایف آئی اے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے اور یہ گورنمنٹ بھی کرے گی،چیف جسٹس نے کہاکہ ایف آئی اے کو چاہئے کہ اگر کوئی واقعہ ہو تو صحافیوں کے اداروں کو بھی اس متعلق آگاہ کریں، اس عدالت نے پیکا ایکٹ کی سیکشن20 کو اسی لیے ختم کیا تاکہ افیکٹ نہ ہو، افضل بٹ نے کہاکہ کسی کے خلاف کمپلینٹ ہے تو تفتیش کرے، نہ کہ بندے کو اٹھایا جائے، عدالت نے کہاکہ جس بھی صحافی کے خلاف کوئی درخواست ہو تو اس میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس شامل کرے،اس جیسے کیسسز میں ٹرانسپرنسی کے لیے پی ایف یو جے کو شامل کرے، فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے کہاکہ ایف آئی اے میں ایک سائبر ونگ جبکہ دوسرا کاؤنٹر ٹیرارزم ونگ ہے،سیاسی جماعتوں کے کارکنان غداری جیسے مقدمات میں گرفتار کیا جارہا ہے، عدالت نے کہاکہ غداری جیسے الفاظ کو اگر سیاسی لوگ خود حل کریں تو بہتر ہوگا،صحافیوں کی حد تک پی ایف یو جے کو ایس او پیز میں شامل کرے، اس موقع پر ڈائریکٹر ایف آئی اے نے یقین دہانی کرائی کہ ہم کسی کو ہراساں نہیں کریں گے،فواد چوہدری نے کہاکہ پشاور سے ایک بچے کو فیک ویڈیو کے اوپر اٹھایا اور کاؤنٹر ٹیرارزم میں ڈال دیا،

عدالت نے کہاکہ جب یہ حکومت اپوزیشن میں تھی تب پیکا اور ایف آئی اے کو ٹھیک نہیں سمجھ رہے تھے اب آپ ایسا کہتے ہیں، ایف آئی اے حکام نے کہاکہ ہم نے عدالت میں جو ایس او پیز جمع کرائے، ان پر عمل درآمد کیا جائے گا،چیف جسٹس نے کہاکہ کسی نے یہ نہیں کہا کہ کوئی جرم کرے تو اس کے خلاف کارروائی نہ کریں، مناسب یہ ہو گا کہ جرنلسٹ باڈی پی ایف یو جے کو بھی متعلقہ صحافی کے کیس سے آگاہ کیا جائے، عدالت نے ڈائریکٹر ایف آئی اے کو پی ایف یو جے کے ساتھ بیٹھ کر مشاورت کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ آئندہ سماعت پر مجاز افسر کو عدالت بھیجیں اور سماعت 26 مئی تک کیلئے ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں