صدرِ پاکستان وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں،ماہر قانون

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پی ٹی آئی کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ صدرِ پاکستان وزیراعظم شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں کیونکہ صرف ق لیگ کے دو ووٹ کا فرق ہے۔انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں ڈائریکشن دے دی جائے کہ اعتماد کے ووٹ میں دوسری طرف ووٹ دینا ہے تو حکومت ہٹ سکتی ہے۔قبل ازیں تحریک انصاف کے ترجمان فواد چودھری نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہبازشریف اور حمزہ شہباز اپنی اکثریت کھو چکے ہیں، وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتیں ختم ہو چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دیا ہے،منحرف ارکان کا ووٹ شمار نہیں ہوگا، سپریم کورٹ کی رائے فیصلے کی ہوتی ہے، 25 ارکان کی نااہلی کا فیصلہ کل سنایا جانا ہے، شہبازشریف اور حمزہ شہبازکو آج ہی عہدے چھوڑ دینا چاہیے، صدرمملکت سے اپیل ہے وفاقی اور صوبائی اسمبلیاں توڑ کر نئے انتخابات کرائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ فیصلے پر قانونی ٹیم سمیت تمام پاکستانیوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، منحرف ارکان کا ووٹ گنا نہیں جائے گا، اصولی طور پر موجودہ حکومت ختم ہو گئی ہے، موجودہ حکومت نے ملکی معیشت کا بیڑا غرق کردیا ہے۔ رہنماء پی ٹی آئی فرخ حبیب نے کہا کہ حق اور سچ کی فتح پر عوام میں خوشی کی لہر نظر آرہی ہے، انحراف جمہوریت کو کمزور کرتا ہے، 63اے کی روح ہے کہ انحراف کو روکا جائے، اگر یہ فیصلہ پہلے آجاتا تو اتحادی کبھی ساتھ نہ چھوڑتے، اللہ کے ہر کام میں بہتری ہوتی ہے اچھا ہوا بلیک میلنگ سے چھٹکارا مل گیا۔دوسری جانب سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے صدارتی ریفرنس کے فیصلے میں منحرف ارکان تاحیات نااہلی سے بچ گئے، سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی سے متعلق سوال واپس بھیج دیا اور تحریک انصاف کی تاحیات نااہلی کی درخواستیں خارج کر دیں۔ تاہم سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ منحرف ارکان کا ووٹ شمار نہیں ہوگا ‘ انحراف پارلیمانی نظام جمہوریت کو عدم استحکام سے دوچار کرسکتا ہے‘ انحراف پر نا اہلی سے متعلق قانون سازی کا یہی وقت ہے‘ اس کا فیصلہ پارلیمنٹ کو کرنا چاہئے ، انحراف کرنا سیاست کیلئے کینسر ہے ، انحراف پارلیمانی نظام جمہوریت کو عدم استحکام سے دوچار کرسکتا ہے ، آرٹیکل 63 اے کا مقصد انحراف سے روکنا ہے ، آرٹیکل 63 اے کو تنہا نہیں پڑھا جاسکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں