ایک مہینے میں ڈالر 11 روپے مہنگا، قرضوں میں 1500 ارب روپے کا اضافہ ہوا

لاہور (نیوز ڈیسک) سینئر صحافی کے مطابق شہباز حکومت کے ایک ماہ میں ملک کے قرضوں میں 1500 ارب روپے کا اضافہ ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی ارشد شریف نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف حکومت کی معاشی پالیسیوں اور کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کہا جاتا تھا کہ شہباز شریف ایک برینڈ ہے، بیانیہ بنایا گیا کہ شہباز اسپیڈ کام کر کے دکھائے گی۔ ارشد شریف نے کہا کہ ایک مہینے میں ڈالر 11 روپے مہنگا ہو گیا،قرضوں میں 1500 ارب روپے کا اضافہ ہو گیا، اسٹاک مارکیٹ 3400 سے زائد پوائنٹس گر گئی،

قومی خزانے سے 4 ارب ڈالرز سے زائد غائب ہو گئے، یہ ہے شہباز اسپیڈ!۔ واضح رہے کہ نئے کاروباری ہفتے کے آغاز پر بھی ناصرف ڈالر کی قیمت میں اضافے کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ اسٹاک مارکیٹ بھی بری طرح کریش کر گئی۔ انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں ایک روپیہ 65 پیسے کا بڑا اضافہ دیکھا گیا، یوں امریکی ڈالر کی قیمت 192 روپے 53 پیسے سے بڑھ کر 194 روپے 18 پیسے ہو گئی۔ دوسری طرف پاکستان سٹاک مارکیٹ میں بھی غیر یقینی صورتحال چھائی ہوئی ہے، 100 انڈیکس 43 ہزار کی سطح سے نیچے گر گیا۔ پیر کے روز 100 انڈیکس 819.14 پوائنٹس کی بڑی مندی کے بعد 42667.32 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ کر بند ہوا، پورے کاروباری روز کے دوران کاروبار میں 1.88 فیصد کی تنزلی دیکھی گئی۔ پہلے کاروباری روز کے دوران 13 کروڑ 47 لاکھ 52 ہزار 455 شیئرز کا لین دین ہوا جس کے باعث سرمایہ کاروں کو 150 ارب روپے کے قریب نقصان برداشت کرنا پڑا۔ یاد رہے کہ شہباز شریف کی جانب سے حکومت سنبھالنے کے بعد سے ڈالر کی قیمت میں 11 روپے سے زائد کا اضافہ ہو چکا۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران روپے کی قدر گرنے کی وجہ سے قرضوں کے مجموعی حجم میں 1500 ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہو چکا، جبکہ اسٹاک مارکیٹ میں بھی 4 نفسیاتی حدیں گرنے کی وجہ سے 100 انڈیکس میں 3400 سے زائد پوائنٹس کی کمی ہو چکی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں