خالد مقبول صدیقی نے ایم کیو ایم کی حکومت میں شمولیت کو غلط فیصلہ قرار دے دیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے حکومت میں شمولیت کو غلط فیصلہ قرار دے دیا ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے سب سے زیادہ مطالبات پی ٹی آئی کی حکومت میں مانے گئے ، عدم اعتماد پر نیوٹرل رہنا چاہیے تھا،مجبوری تھی نیوٹرل نہیں رہ سکے ، دو ہی آپشنز تھے یا عدم اعتماد کے ساتھ ہوتے یا مخالف ہوتے ، اب پارٹی کو اپوزیشن میں بیٹھنے کا مشورہ دے دیا ہے ، فیصلہ پارٹی نے کرنا ہے میں صرف مشورہ دے سکتا ہوں ۔ ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ

ایم کیو ایم پاکستان نے وزیراعظم کو فوری الیکشن کی تجویز دی ہے ،انتخابی اصلاحات ایک ہفتے میں ہو سکتی ہیں ، عام انتخابات ہی مسائل کا حل ہیں فریش مینڈیٹ لیا جائے دیر کی تو بدنصیبی ہو گی ، اس کے علاوہ ایم کیو ایم نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافے کی بھی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی خاطر سیاست کی قربانی دینا ہو گی، مشکل حالات میں ریاست کو دیکھنا ہے سیاست کو نہیں ۔ قبل ازیں وزیرِ اعظم شہباز شریف سے متحدہ قومی مومنٹ پاکستان کے کنوینر اور رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی ملاقات ہوئی ، جس میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو اور تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اس موقع پر خالد مقبول صدیقی نے وزیرِ اعظم کو عوامی فلاحی منصوبوں کو حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل کرنے اور کراچی کی عوام کیلئے ترقیاتی منصوبوں پر فوری عملدرآمد کی ہدایات پر خراجِ تحسین پیش کیا جب کہ وزیرِ اعظم نے حکومتی اصلاحات کے نفاذ میں اتحادی جماعتوں کے تعاون کا خیر مقدم کرتے ہوئے مستقبل میں قومی مفاد کے فیصلوں میں اتحادیوں کے تعاون کو کلیدی قرار دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں