بائیڈن کی کال آئی تو شکریہ نہ آئی تو بھی شکریہ، شہباز شریف

لاہور (نیوز ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن کی کال آئی تو شکریہ نہ آئی تو بھی شکریہ۔انہوں نے سینئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران کہا کہ بیرونی سازش کے ساتھ مل کر حکومت حاصل کرنے سے بڑا کفر نہیں، نیشنل سیکیورٹی کونسل کی دونوں میٹنگ میں واضح طور پر کہا گیا کہ غیر ملکی سازش نہیں ۔ وزیراعظم شہباز شریف سے لاہور میں کونسل آف پاکستان نیوزپیپرز ایڈیٹرز کے وفد نے ملاقات کی، ملاقات میں وزیراطلاعات مریم اورنگزیب، سیکرٹری انفارمیشن شاہیرہ شاہد، پی آئی او مبشر حسن شامل تھے۔وفد میں سی پی این ای صدر کاظم خان، سینیئر نائب صدر ایاز خان،

نائب صدر پنجاب ارشاد احمد عارف، سیکرٹری جنرل سی پی این ای عامر محمود اور دیگر ممبران شامل تھے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت آزادی صحافت اور اظہار رائے پرقدغن لگانے کا ارادہ نہیں رکھتی، پیکا آرڈیننس اور دیگرقوانین کےتحت صحافیوں کےخلاف بلاوجہ کاروائیوں پر ہر ممکن تحفظ دیا جائےگا، پیکا آرڈیننس کا جائزہ لینےکا کام پہلے ہی وزارت قانون کو سونپ دیا گیا ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت بجلی کی پیداوار، ترسیل اور رسد کویقینی بنانےکے لیے اقدامات کر رہی ہے، سابقہ حکومت نے چار سالوں میں قوم پر قرضوں کا بوجھ دگنا کیا، حکومت بنیادی ضروریات زندگی کی کم داموں پردستیابی یقینی بنانےکےلیے کوشاں ہے، حکومت سی پیک اور ریکوڈک سمیت تمام منصوبوں پرکام کرنے کے لیےکوشاں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت تمام ملکوں سے باہمی عزت اور مفاد کا تعلق رکھنا چاہتی ہے، ملک میں شفاف انتخابات کے لیے انتخابی اصلاحات بہت ضروری ہیں۔زیراعظم شہباز شریف نےکہا ہےکہ آرمی چیف کی ایکسٹینشن کا سوال قبل از وقت ہے ، جب وقت آئے گا دیکھ لیں گے، عمران خان کوئی آئن اسٹائن نہيں ہیں کہ قوم ان کے پیچھے چلے، ہماری کارکردگی لوگوں کے دلوں میں گھر کرگئی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں