ہیومن رائٹس کمیشن کا پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مقدمات فوری واپس لینے کا مطالبہ

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات فوری واپس لینے کا مطالبہ کردیا ۔ تفصیلات کے مطابق ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی سینئرقیادت کے خلاف مقدمے سیکشن 295 اے کے تحت درج کیے گئے ، سیاسی مخالفین کے خلاف توہین مذہب بطورہتھیار استعمال نہ کیا جائے ، کسی حکومت یا سیاسی جماعت کو مخالفین کے خلاف ایسا کرنے کا حق نہیں ہے ، تحریک انصاف کی سینئر قیادت کے خلاف مقدمے فوری واپس لیے جائیں۔ادھر اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی قیادت پر

مقدمات کے خلاف فواد چوہدری کی درخواست پرفریقین کو نوٹس جاری کردیے ، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہرمن اللہ نے حکم دیا ہے کہ سیکرٹری داخلہ یقینی بنائیں کہ فواد چوہدری کو ہراساں نہ کیا جائے ، آئندہ سماعت تک ان کےخلاف کوئی کارروائی بھی نہ کی جائے ، عدالتی احکامات کی نقل سیکرٹری قومی اسمبلی کو بھی بھجوانے کی ہدایت کردی گئی ۔درخواست پر سماعت کے دوران فیصل چودھری ایڈووکیٹ نےراناثنااورمریم نوازکےبیانات پڑھ کر سنائے ، فیصل چودھری ایڈووکیٹ نے بتایا کہ مریم نوازنےکہاعمران خان ایک فتنہ ہے جسے کرش کریں ، راناثنا اللہ نےکہاشیخ رشید اورساتھیوں کاگھروں سےنکلنا مشکل کرسکتا ہوں ۔ وکیل فواد چوہدری نے کہا کہ اقعہ مدینہ منورہ میں ہوااور یہاں مقدمات درج ہوگئے ، ایک واقعہ کی ایک سےزائدایف آئی آر درج نہیں کرائی جا سکتی، اسلام آباد کے دو تھانوں میں بھی مقدمات درج کیے گئے ، ہم چاہتےہیں تمام مقدمات کی فہرست عدالت کے سامنے رکھی جائے ۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفار کیا کہ کیا فواد چوہدری تاحال ممبر قومی اسمبلی ہیں؟ اسپیکرقومی اسمبلی کی اجازت کے بغیر تو گرفتاری نہیں ہو سکتی ، عدالت کےدائرہ اختیارتک پولیس کوہدایات جاری کر دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں عدالت نے تحریک انصاف کے رہنماء شہباز گل کی بیرون ملک سے واپسی پر گرفتاری سے روک دیا ، پی ٹی آئی کی درخواست پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے احکامات جاری کردیے ، درخواست گزار کی جانب سے فیصل چودھری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے تو چیف جسٹس اسلام

آباد ہائیکورٹ کا استفسار کیا کہ شہباز گل کہاں پر ہیں؟ اس پر ان کے وکیل نے بتایا کہ 28اپریل کو امریکا گئے تھے، 4مئی کو ان کی واپسی ہے ، اسلام آباد،فیصل آباد، اٹک، جہلم،کراچی و دیگر شہروں میں مقدمات درج کیے گئے، سیاسی طور پر انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، پٹیشنر عدالت کے سامنے پیش ہونا چاہتے ہیں، شہباز گل سمیت دیگر کیخلاف 11 مختلف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔بتاتے چلین کہ مسجد نبویﷺ میں حکومتی وفد کے ساتھ پیش آئے واقعے کی بناء پر تحریک انصاف قیادت کے خلاف دائر مقدمات کو عدالت میں چیلنج کردیا گیا ، اس حوالے سے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی

طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے ، فواد چوہدری نے پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم میں شامل ایڈوکیٹ فیصل فرید اور ایڈوکیٹ علی بخاری کے توسط سے یہ درخواست دائر کی ، اسسٹنٹ رجسٹرار ہائی کورٹ اسد خان نے درخواست وصولی کی تصدیق کردی۔درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ایف آئی اے یا پولیس کا کوئی بھی ایکشن غیر قانونی قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے ، کس بنیاد پر مقدمات دائر کیے گئے وجوہات سے آگاہ کیا جائے ، مقدمات میں نامزد افراد کو ہراساں کرنے سے روکا جائے ، ملک بھر میں درج مقدمات کو ریکارڈ پر لانے کی ہدایت کی جائے ، پٹشنرز اور ان کے ساتھیوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی سے روکا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں