یکم مئی سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا یا نہیں ، وزیراعظم شہباز شریف نے سمری پر فیصلہ سنادیا

اسلام آباد ( نیوز ڈیسک ) وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کردی ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حوالے سے شہباز شریف نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی موجود قیمتیں آئندہ ماہ برقرار رہیں گی ، پچھلی حکومت کی نالائقی، نااہلی اور غلطیوں کی سزا عوام کو نہیں دے سکتے۔ گزشتہ روز یہ خبر آئی تھی کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری اضافے کا فیصلہ مؤخر کردیا ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متوقع اضافے کی صورت میں ہونے والے ڈیزل کے بحران کو دیکھتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری اضافے کا فیصلہ مؤخر کیا گیا ہے ،

یکم مئی تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقراررہیں گی اس کے بعد اوگرا کی جانب سے بھیجی گئی سمری اورعالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے تعین کو دیکھ کر قیمتوں سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔دوسری طرف ڈیزل مہنگا ہونے کی افواہوں پر مصنوعی قلت پیدا کی گئی اور زیادہ مہنگا ہونے کی خبروں پر ڈیزل کی ذخیرہ اندوزی کا انکشاف ہوا جس کی بناء پر ذخیرہ اندوزوں کیخلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے سیکرٹری پٹرولیم علی رضا بھٹہ کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا ورچوئل اجلاس ہوا ، جس میں اوگرا، پی ایس او حکام اور تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی ، اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے مطلوبہ ذخائر موجود ہیں ، 21 دنوں کا ڈیزل اور31 دنوں کا پٹرول کا مطلوبہ ذخیرہ موجود ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈیزل کے مجاز ڈیلرز کا سٹاک چیک اور مانیٹرنگ سخت کی جائے ، ڈیزل کی سپلائی چین کو مستحکم رکھنے کو یقینی بنایا جائے ، جس کے لیے چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز کو چھاپے مارنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں اس دوران ذخیرہ اندوزی میں ملوث ڈیلرز کے لائسنس منسوخ کردیے جائیں گے۔ بتایا گیا ہے کہ اس وقت ملک میں تیل کمپنیوں کے دس ہزار کے لگ بھگ مجاز ڈیلرز ہیں ، بغیر لائسنس ڈیلرز کی تعداد لا محدود ہے جن کا حکومت کے پاس کوئی ڈیٹا نہیں ہے ، ان بغیر لائسنس ڈیلرز نے بڑے پیمانے پر ڈیزل کی ذخیرہ اندوزی کی ہے جب کہ گندم کی کٹائی کی وجہ سے ڈیزل کی طلب میں اضافہ ہوا ہے اور ڈیزل کی یومیہ کھپت 23 ہزار سے بڑھ کر 33 ہزار ٹن ہوگئی ، ڈیزل کی کھپت میں اضافے کی وجہ سے بھی سپلائی متاثر ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں