دعا زہرا سے رابطہ کیسے ہوا اور کب سے تھا؟شوہر ظہیر احمد نے بتادیا

لاہور(نیوز ڈیسک)دعا زہرہ سے رابطہ کیسے ہوا؟ شوہر ظہیر احمد کا بیان سامنے آگیا، دعا زہرہ کے شوہر نے ایک بیان میں کہا کہ دعا اور میرا رابطہ پب جی گیم کے ذریعے ہوا اور پچھلے تین سال سے ہمارا رابطہ تھا۔ ظہیر احمد نے کہا کہ دعا زہرہ کراچی سے خود آئی ہے، دعا نے میرے گھر کے باہر آکر مجھے میسج کیا، وہ رینٹ کی گاڑی پر آئی تھی۔ظہیر احمد کاکہنا تھا کہ میرے گھر والے شادی پر آمادہ تھے، میرے گھر والے بھی چاہتے تھے کہ دعاکے گھر والے رضامند ہوں لیکن دعا کے گھر والوں نے شادی کیلئےمثبت جواب نہیں دیا ، اسی وجہ سے یہ خود اپنا گھر چھوڑ کر آ گئی۔

کچھ دیر قبل دعا زہرہ نے والد پر لاہور میں واقع گھر میں گھسنے اور اغواء کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے لاہور کی سیشن کورٹ میں والد کیخلاف درخواست دائرکی تھی ، اپنی درخواست میں لڑکی نے والد اور کزن پر اغواء کی کوشش کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ والد میرے کزن زین العابدین سے زبردستی شادی کروانا چاہتے ہیں اور میں اپنے خاوند کے ساتھ ہنسی خوشی رہ رہی تھی کہ اس دوران 18 اپریل کو والد اور کزن زین العابدین اچانک گھر میں گھس آئے ، دونوں نے مجھے اور میرے خاوند کو دھمکیاں دیں اور مجھے میرے گھر سے اغواء کرنے کی کوشش کی تاہم اہل محلہ کے جمع ہونے پر دونوں اپنی کوشش میں ناکام رہے۔بتایا گیا ہے کہ دعا زہرہ نے عدالت میں اپنے والد کے خلاف ہراسمنٹ کی درخواست دی ‘ جس میں استدعا کی کہ عدالت والد اور کزن کو ہراساں کرنے سے روکنے کا حکم دے کیوں کہ میں نے اپنی پسند سے شادی کی ہے اور خاوند کے ساتھ ہی رہنا چاہتی ہوں۔ خیال رہے کہ کراچی کے علاقے ملیر سے لاپتا ہونے والی لڑکی کو پولیس نے پاکپتن سے تحویل میں لے لیا ، اپنے بیان میں دعا زہرہ نے کہا کہ میں اپنی مرضی سے اپنے گھر سے آئی ہوں، میرے گھر والے زبردستی میری شادی کسی اور سے کرانا چاہ رہے تھے، وہ مجھے مارتے تھے، جس پر میں راضی نہیں ہوئی، اپنی مرضی سے آئی ہوں کسی نے اغوا نہیں کیا جب کہ گھر سے کوئی قیمتی سامان نہیں لائی، گھر والے میری عمر غلط بتارہے ہیں، میری عمر 18 سال ہے، اپنی مرضی سے ظہیر احمد سے کورٹ میرج کی ہے،

کوئی زبردستی نہیں ہوئی لہٰذا مجھے تنگ نہ کیاجائے، اپنے گھر میں شوہر کے ساتھھ بہت خوش ہوں‘۔گزشتہ روز کراچی پولیس نے لاہور پولیس کے ساتھ دعا زہرہ کا نکاح نامہ شیئر کیا تھا جس کے بعد لاہور پولیس نے اس سلسلے میں تحقیقات شروع کیں ، جس سے معلوم ہوا کہ نکاح نامے پر موجود ایک گواہ اصغر علی ہے جس کی رہائش حویلی لکھا کی بتائی گئی تھی، پولیس نے اس سراغ کے ذریعے اوکاڑہ پولیس سے رابطہ کیا تو اوکاڑہ پولیس نے حویلی لکھا سے اصغر علی کو حراست میں لے لیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہےکہ اصغر علی سے تفتیش کی گئی تو اس نے بتایا کہ دعا اور اس کا شوہر ظہیر دونوں اس کے پاس یہاں آئے تھے اور اب یہاں سے جاکر پاکپتن میں موجود ہیں۔پولیس ذرائع کےمطابق اصغر علی کے بیان پر پولیس نے پاکپتن پر ایک زمیندار کے گھر پر چھاپہ مارا جہاں سے دعا اور اس کے شوہر ظہیر کو تحویل میں لے لیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں