دعا زہرہ کے والدین کا ظہیر احمد کے خلاف اغوا کا کیس کرنے کا اعلان

کراچی(نیوز ڈیسک)کراچی سے لاپتہ ہوکر پاکپتن سے ملنے والی دعا زہرہ کے والدین نے اس کیے شوہر ظہیر احمد کے خلاف اغوا کا کیس کرنے کا اعلان کردیا ۔ تفصیلات کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعا زہرہ کے والدین نے وزیراعلیٰ سندھ سے بیٹی کو کراچی لانے کی بھی اپیل کردی ، اس دوران لڑکی کے والد نے کہا کہ دعا زہرہ دباؤ میں بیان دے رہی ہے ، 18سال سے کم عمر بچی کو لے کر جانا اغواء ہے ، میری بیٹی کواغواء کیا گیا اور اب اپنی مرضی سے بیان دلوایا جارہا ہے۔دعا زہرہ کے والد نے کہا کہ ظہیراحمد کو نہیں جانتا ، کلیش آف کلین نامی گیم پر دعازہرہ اور ظہیر کی دوستی ہوئی ،

ایسے گیمز میں کالنگ سسٹم ہوتے ہیں ، جو رابطہ ہوا اسی گیم کے ذریعے ہوا ، اگر کوئی رشتے کا معاملہ ہوتا توایک گھرمیں رشتہ بھیجتے ، 18 تاریخ کو میں کسی سے ملنے گیا تھا میرے ان کے گھر جانے کی کہانی جھوٹ پر مبنی ہے۔لڑکی کے والد نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ سے اپیل ہے دعا کو کراچی واپس لایا جائے ، ہماری بیٹی انڈرایج ہے ، اس کو چائلڈ پروٹیکشن بیورومیں رکھا جائے ، وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی سے درخواست ہے کہ بچی کراچی سے اغواہوئی تو مقدمہ بھی کراچی میں ہونا چاہیئے ، میری بیٹی ویڈیومیں دباؤ میں بول رہی ہے ، اس لیے چاہتا ہوں کہ صاف شفاف ٹرائل کرایا جائے۔اس موقع پر دعا زہرہ کی والدہ نے کہا کہ نکاح خواں نے بھی نکاح کرانے سے انکارکیا اس کے علاوہ نکاح نامے پر تاریخ اور مہر موجود نہیں ہے ، ہماری بیٹی کی عمرابھی 13سال ہے ، میں ظہیراحمد کے خلاف اغواء کا کیس دائر کروں گی۔ دوسری طرف دعا زہرہ نے والد پر لاہور میں واقع گھر میں گھسنے اور اغواء کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے لاہور کی سیشن کورٹ میں والد کیخلاف درخواست دائرکردی ، اپنی درخواست میں لڑکی نے والد اور کزن پر اغواء کی کوشش کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ والد میرے کزن زین العابدین سے زبردستی شادی کروانا چاہتے ہیں اور میں اپنے خاوند کے ساتھ ہنسی خوشی رہ رہی تھی کہ اس دوران 18 اپریل کو والد اور کزن زین العابدین اچانک گھر میں گھس آئے ، دونوں نے مجھے اور میرے خاوند کو دھمکیاں دیں اور مجھے میرے گھر سے اغواء کرنے کی کوشش کی تاہم

اہل محلہ کے جمع ہونے پر دونوں اپنی کوشش میں ناکام رہے۔بتایا گیا ہے کہ دعا زہرہ نے عدالت میں اپنے والد کے خلاف ہراسمنٹ کی درخواست دی ‘ جس میں استدعا کی کہ عدالت والد اور کزن کو ہراساں کرنے سے روکنے کا حکم دے کیوں کہ میں نے اپنی پسند سے شادی کی ہے اور خاوند کے ساتھ ہی رہنا چاہتی ہوں۔ خیال رہے کہ کراچی کے علاقے ملیر سے لاپتا ہونے والی لڑکی کو پولیس نے پاکپتن سے تحویل میں لے لیا ، اپنے بیان میں دعا زہرہ نے کہا کہ میں اپنی مرضی سے اپنے گھر سے آئی ہوں، میرے گھر والے زبردستی میری شادی کسی اور سے کرانا چاہ رہے تھے، وہ مجھے مارتے

تھے، جس پر میں راضی نہیں ہوئی، اپنی مرضی سے آئی ہوں کسی نے اغوا نہیں کیا جب کہ گھر سے کوئی قیمتی سامان نہیں لائی، گھر والے میری عمر غلط بتارہے ہیں، میری عمر 18 سال ہے، اپنی مرضی سے ظہیر احمد سے کورٹ میرج کی ہے، کوئی زبردستی نہیں ہوئی لہٰذا مجھے تنگ نہ کیاجائے، اپنے گھر میں شوہر کے ساتھھ بہت خوش ہوں‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں