پاکستان او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا صدر بن گیا

اسلام آباد ( نیوز ڈیسک ) پاکستان ایک سال کیلئے او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا چیئرمین بن گیا ، او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کی چیئرمین شپ ایک سال کے لیے پاکستان کو سونپی گئی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں اوآئی سی وزرائے خارجہ کا 48 واں اجلاس باقاعدہ شروع ہوچکا ہے ، اجلاس کے آغاز پر قرآن پاک کی تلاوت کی گئی ، جس کے بعد او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کی چیئرمین شپ ایک سال کے لیے پاکستان کو سونپ دی گئی ، نائجر کے وزیرخارجہ نے اوآئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کی صدارت پاکستان کے حوالے کی۔ بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں

مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ ، او آئی سی سیکریٹری جنرل اور وفود شریک ہیں ، چین کے وزیرخارجہ بطور مہمان خصوصی اس اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں ، جہاں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کریں گے۔اوآئی سی وزرائے خارجہ کونسل کی صدارت پاکستان کومل گئی۔نائجرکے وزیرخارجہ نے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کو صدارت سپرد کی۔اوآئی سی کانفرنس پارلیمنٹ ہائوس میں جاری ہے۔جس میں وزیراعظم عمران خان بھی شریک ہوئے۔نائجرکے وزیرخارجہ نے وزرائے خارجہ اجلاس کے انعقاد پرپاکستان کومبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انصاف اورمساوات کی بنیاد پرشراکت داری پائیدارہوتی ہے۔امہ کودہشت گردی اورانتہا پسندی جیسے چیلنجزکا سامنا ہے۔اوآئی سی کا مقصد تمام ملکوں میں استحکام کا فروغ ہے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے صدارت سنھبالنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اوآئی سی 2 ارب مسلمانوں کی مشترکہ آوازہے۔افغانستان میں جاری صورتحال دنیا کے سامنے ہے۔ افغانستان میں نئی حکومت۔انسانی بحران اور افغانوں کی مدد چیلنج رہا۔او آئی سی کے ذریعے دنیا کی توجہ افغانستان کی جانب مبذول کرانا چاہتےہیں۔وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ اسلامو فوبیا کے خلاف اقوام متحدہ میں پیشرفت خوش آئند ہے۔ پاکستان نےاسلام وفوبیا کے خلاف قرارداد کیلئےکردارادا کیا۔اقوام متحدہ نے ہماری آوازپر 15مارچ کواسلاموفوبیا سےمتعلق عالمی دن مقررکیا۔پاکستان نے دنیا میں ہر فورم پر اسلامو فوبیا کے خلاف آواز اٹھائی۔ہم نے خطے میں امن کی بات کی اور استحکام کے لیے اقدامات کرتے رہےہیں۔
پاکستان او آئی سی کے کردار کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔وزیرخارجہ نے زور دیا کہ اوآئی سی امت مسلمہ کودرپیش چیلنجز سے نمٹنے کےلیے اجتماعی ردعمل کا مظاہرہ کرے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نےاکنامک ڈپلومیسی کوفروغ دیا۔افغانستان کو دہائیوں چیلنجز اور مشکلات کا سامنا رہا۔پاکستان نے افغانستان کے لیے نمائندہ خصوصی مقرر کیا۔ پاکستان نےافغانستان سے متعلق اوآئی سی خصوصی اجلاس کی میزبانی کی۔افغانستان میں انسانی بحران سے بچنےکیلئے ٹرسٹ فنڈ قائم کیاگیا۔وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ آج مسلمان ممالک میں بیرونی مداخلت جاری ہے۔فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں دیا جا رہا۔

مسلم ممالک کومشرق وسطیٰ میں تنازعات کا سامنا ہے۔تنازعات کے باعث ترقی کاعمل متاثرہوتا ہے۔دنیا میں تنازعات کا بڑاحصہ مسلم ممالک میں ہے۔تنازعات کےخاتمےکیلئےامہ کےدرمیان تعاون،روابط کافروغ ضروری ہے۔ مسئلہ فلسطین اورکشمیر پربات کرتے ہوئے شاہ محمودقریشی کا کہنا تھا کہ فلسطین کےمسلمانوں کوان کاحق نہیں دیا جارہا۔مقبوضہ کشمیراورفلسطین گزشتہ 7 دہائیوں سےقبضے کا شکارہیں۔بطوررکن ملک پاکستان مسلم ممالک کےدرمیان رواداری کوفروغ دےگا۔اوآئی سی مسلم امہ کےدرمیان اتحاداوریکجہتی کیلئے کام کررہی ہے۔مشرق اورمغرب کےدرمیان کشیدگی سےعالمی امن کوخطرہ ہے۔دنیا میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم سے غربت میں اضافہ ہورہا ہے۔مقبوضہ کشمیرمیں خونریزی جاری ہے۔آرایس ایس نظریےسے متاثربھارتی حکومت کشمیرمیں ظلم ڈھارہی ہے۔کشمیری حق خودارادیت کی جنگ لڑرہےہیں۔

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button