ان بےشرموں کو کہتا ہوں، تمہارے باپ کا نہیں یہ عمران خان کا ووٹ ہے، فواد چودھری

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ بے شرموں کو کہتا ہوں، تمہارے باپ کا نہیں یہ عمران خان کا ووٹ ہے، ضمیر کی آواز پر ووٹ دینا ہے تو استعفا دواور الیکشن لڑ کر پھر یہاں آؤ،ووٹ کے استعمال کیلئے قانونی عمل شروع کردیا ہے، سندھ ہاؤس نیا چھانگا مانگا بن گیاہے،جہاں ارکان کو خچروں اور گھوڑوں کی طرح خریداجا رہاہے۔وفاقی وزراء اسد عمر، فواد چودھری اور حماد اظہر پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ انفرادی طور پر کسی کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا، عمران خان 26 سال سے سیاست کررہے ہیں،

عمران خان اپنی ذات کے لیے سیاست نہیں کرتے، عمران خان نہ کبھی کسی کو بلیک میل کرتے ہیں نہ وہ بلیک میل ہونے کو تیار ہیں، چھانگا مانگا تو ان کا بہت پرانا کاروبار ہے، وزیراعظم عمران خان عوامی لیڈر ہیں، قوم نے انہیں وزیراعظم بنایا، وزیراعظم عمران خان اصول اور نظریے پر کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے، تحریک انصاف پورے طریقے سے مقابلہ جاری رکھے گی، ہم جو بھی کریں گے وہ آئین اور قانون کے دائرے میں ہوگا، ہم کوئی غیر قانونی کام نہیں کریں گے، یہ لوگ صرف جمہوریت کا نام استعمال کرتے ہیں، یہ جمہوریت کے نام پر کاروبار کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا کہ عمران خان اس ہارس ٹریڈنگ کے نظام کیخلاف کھڑے ہیں، یہ کروڑوں روپے کی بولیاں لگانے کا نظام ہے، عمران خان اس سارے نظام کیخلاف کھڑے ہیں، ہم عوام کیلئے سیاست کرتے ہیں، حکومت کے پاس اربوں روپے موجود ہیں ہم چاہیں تو ان کے آدھے لوگ خرید سکتے ہیں، اقتدار کیلئے کبھی سودے بازی نہیں کریں گے، ہم اپنے ووٹر اور پاکستان کیلئے سیاست کریں گے، ہم اپنے اتحادیوں کےساتھ رابطے میں رہیں گے۔وفاقی وزیرحماد اظہر نے کہا کہ ہمارے تمام اتحادی ملک کے مفاد میں فیصلہ کریں گے، سندھ ہاوس میں ضمیر کی نہیں پیسے کی آواز ہے، جن لوگوں کے چہرے نظرآئے میڈیا ان کے حلقے میں جا کر عوام سے پوچھے، 27 مارچ کے جلسے اور عدم اعتماد کی تیاری کررہے ہیں، ہم ان کی عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام کریں گے، پاکستان کی سیاست کی گندگی کھل کر سامنے آگئی ہے، کارکن27 مارچ کے جلسے کی تیاری جاری رکھیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات ہوئی ، فیصلہ ہوا کہ ہم اپنی حکومت بچانے کیلئے کسی قسم کی بلیک میلنگ، سودے بازی کو مسترد کرتے ہیں،عوام سے جو وعدے کرکے آئے تھے اس میں روائتی سیاست فٹ نہیں بیٹھتی ، یہاں پر آصف زرداری اور نوازشریف کا ایک بزنس ماڈل ہے،یعنی پیسے لگاؤ، حکومت میں آؤ اور پیسے کماؤ۔یہ ماڈ ل 1990سے دیکھ رہے ہیں، عوام پر فرض ہے کہ وہ عمران خان کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں، ہمارے بکنے والے ارکان کے حلقوں سے فون آرہے ہیں ، کارکن سراپا احتجاج ہیں۔ ہم نے ان کو کہا قانون کو ہاتھ میں نہ لیں۔

ایک خاتون رکن کو7کروڑ روپیہ دیا گیا، یہ پیسا کہاں سے آرہا ہے؟جبکہ اس وقت اندرون سندھ اور کراچی کے جو حالات ہیں وہاں لوگوں کے پاس پینے کا پانی نہیں ہے، لیکن جہازوں میں پیسے بھر کے یہاں پر آئے،کتنے دکھ کی بات ہے کہ سندھ ہاؤس اس وقت نیا چھانگا مانگا ہے، لوگوں کے ضمیروں کو خریدا اور بیچا جار ہا ہے، بیوپاری اس طرح خریداری کررہے ہیں جیسے خچروں اور گھوڑوں کو خریدابیچا جاتا ہے،ابھی مجھے پتا نہیں وہ کسی دباؤ میں تھے یا ان کو سندھ ہاؤس میں کسی پریشر میں رکھا گیا،لیکن جو بندہ یہ کہتا ہے کہ میں ضمیر کی آواز پر ووٹ دے رہا ہوں میں ان بے شرم لوگوں کو کہتا ہوں ، عمران خان کے نام پر ووٹ لیاہے، شکایت ہے تو استعفا دے کر واپس جاکر الیکشن لڑو اور پھر یہاں پر آؤ۔تمہارے باپ کا ووٹ نہیں عمران خان کا ووٹ ہے، جو سیٹلمنٹ اور جیت کر یہاں آئے ہیں وہ عمران خان کے نام پر ووٹ لے کر آئے ہیں۔ ہم نے ان کے ووٹ استعمال کرنے سے متعلق قانونی عمل شروع کردیا ہے۔ اصل ہمارا ٹارگٹ 27مارچ کو ڈی چوک اسلام آباد ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں