پنجاب میں ان ہاؤس تبدیلی کیلئے حمزہ شہباز بھی متحرک ہوگئے

لاہور(نیوز ڈیسک) موجودہ سیاسی صورتحال میں حمزہ شہباز بھی متحرک ہوگئے ۔ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے ارکان صوبائی اسمبلی سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں حمزہ شہباز کی ترین گروپ کے بعد آزاد ارکان سے بھی رابطوں اور ملاقاتوں کا امکان ہے ، حمزہ شہباز جلد آزاد ارکان احمد علی اولکھ، بلال اصغر اور جگنو محسن سے رابطے کریں گے ، جس میں حمزہ شہباز آزاد ارکان سے پنجاب میں ان ہاوس تبدیلی کی بابت حمایت مانگیں گے۔ دوسری طرف میڈیا رپورٹس بتاتی ہیں کہ مسلم لیگ ق نے حکومت یا اپوزیشن کا ساتھ دینے کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے ،

جس میں مسلم لیگ ق نے واضح کر دیا ہے کہ جو انہیں پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی پیش کش کرے گا اس کا ساتھ دیں گے تاہم مسلم لیگ ن کے ساتھ نظریاتی اختلاف ہے، اس لیے خواہش ہے معاملات طے ہوں اور حکومت کے ساتھ رہیں ۔خیال رہے کہ صوبہ پنجاب میں وزارت اعلیٰ کی تبدیلی کا معاملہ زیر بحث ہے ، جہاں پرویز الہیٰ کے حق میں پوسٹر بھی لگ گئے ہیں ، مسلم لیگ (ق) کے مرکزی دفتر کے باہر کارکنوں نے چوہدری پرویز الٰہی کے لیے وزیراعلیٰ کی فلیکسز لگا دیں ، مسلم لیگ (ق) کے سپورٹرز نے اہم شاہراہوں پر چوہدری پرویزالٰہی کے حق میں پینا فلیکس لگائے ہیں جن پر ’پنجاب کی مجبوری ہے ، وزیراعلیٰ پرویز الہیٰ ضروری ہے‘ کے الفاظ درج ہیں۔ قبل ازیں مسلم لیگ ق کے رہنماء چوہدری پرویز الٰہی نے کہا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب بنا تو تمام مسائل حل کر دوں گا ، اتحادیوں سے کیے گئے تمام وعدے پورے کریں گے ، بڑے سرپرائز آنے والے ہیں، آصف زرداری کا دعویٰ درست ، اپوزیشن کے پاس 172 سے زیادہ ووٹ ہیں ۔ وی انٹرویو میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کو کچے اور پکے کا پتہ نہیں ، وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل مونس الٰہی سے کہا پاکستان تحریک انصاف میں اپنی پارٹی میں ضم کر لو، یہ والی آفر بی اے پی پارٹی کو بھی کی گئی ، یہ ناسمجھی والی سوچ ہے، مہنگائی، ساڑھے تین سال کی پرفارمنس کی وجہ سے حالات ان کے خراب ہوئے، چھوٹے ہسپتالوں میں مک مکا ہو رہا ہے، صحت کارڈ کا آڈٹ تو کرائیں پہلے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت میں عقل و دانش کا 100 فیصد فقدان نظر آرہا ہے، حکومت کے علاوہ تمام جماعتوں نے ہمیں پیشکش کی، حکومت کے گھبراہٹ کے فیصلے سامنے آ رہے ہیں، بس ایک ہی شخص گھبرایا ہوا پھر رہا ہے،پہلے حکومت اور پھر اپوزیشن جلسوں کے اعلان منسوخ کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں