ق لیگ کی حکومتی اتحاد چھوڑنے کی تیاریاں؟چوہدری برادران کا عمران خان کو بڑاسرپرائز

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)حکومت مسلم لیگ ق کو مطمئن کرنے میں ناکام ہوگئی جس کے باعث ق لیگ کی جانب سے حکومتی اتحاد چھوڑنے کا قوی امکان ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ق کی اہم مشاورتی بیٹھک آج شام کو ہوگی، جس میں مسلم لیگ ق اپوزیشن اور حکومت سے ہونے والے مذاکرات سے متعلق غور کرے گی۔مسلم لیگ ق کو حکومت تاحال مطمئن نہیں کر پائی ہے جبکہ مسلم لیگ ق اور حکومت میں گزشتہ روز ہونے والے مذاکرات بھی بے نتیجہ رہے۔مسلم لیگ ق آج شام کو اپنے سیاسی مستقبل اور آئندہ کی حکمت عملی پر غور کرے گی۔ذرائع ق لیگ کے مطابق سیاست میں ضد یا انا نہیں

بلکہ پارلیمانی و جمہوری رویے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، مسلم لیگ ق کی پنجاب سمیت ملکی سیاست میں ہمیشہ سے اہم کردار رہا ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ ہمیں صلح صفائی کی طرف جانا چاہیے۔کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ ہم نے تحریک عدم اعتماد کےلیے قومی اسمبلی اجلاس سے 7 روز قبل پارلیمنٹ، لاجز کو ایف سی اور رینجرز کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ امن و امان کی کوئی شکایت نہ رہے، انصار السلام، بیت السلام اور پرائیویٹ ملیشیاء سمیت کسی کو اندر آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، حکومت 245 کے تحت فوج بلانے کا بھی اختیار رکھتی ہے لیکن اس کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، اپوزیشن شکست تسلیم کرے گی اور اسی تنخواہ پر کام کرے گی۔ عمران خان کے اپوزیشن پر سخت حملوں سے متعلق سوال کے جواب میں وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا کہ مولانا غفور حیدری نے بھی مجھ سے یہی گلہ کیا ہے، میرا خیال ہے ہمیں صلح صفائی اور ٹھنڈے پروگرام کیطرف جانا چاہیے، کیونکہ انہوں نے تحریک عدم اعتماد میں ہارنا ہے اور اس کے بعد بھی ہمیں تنگ کرنا ہے، تو بہتر ہے کہ ان کے ساتھ ہم ابھی سے ٹھنڈے ہوجائیں اور انہیں ذہنی طور پر تیار کردیں کہ آپ ہارنے جارہے ہیں۔شیخ رشید نے مزید کہا کہ میں تو آج بھی چاہتا ہوں کہ ہمیں صلح صفائی کی باتیں کرنی چاہئیں، الیکشن میں ایک سال رہ گیا ہے، بہتر ہے عمران خان کے ساتھ انتظار کریں، ایسا نہ ہو یہ 10سال لائن میں لگے رہیں اور سلیکشن سلیکشن کی باتیں کرتے رہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں