وزیراعظم کا منصب نہیں آفیشل میٹنگ کی بات سیاسی جلسے میں کریں

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ق کے مرکزی رہنماء کامل علی آغا نے کہا ہے کہ سیاسی جلسے میں آرمی چیف سے متعلق بات کرنا قابل مذمت ہے، وزیراعظم نے منصب کے مطابق گفتگو نہیں کی، غیرجانبداری سے متعلق بات بھی قابل مذمت ہے، حکومت کو آرمی چیف سے متعلق بات کرنے سے فائدہ نہیں نقصان ہوگا۔ انہوں نے نجی ٹی وی ہم نیوز کے مطابق سیاست کو سیاست سمجھ کر کرنا چاہیے، سیاست میں کچھ ذمہ داریاں بھی ہوتی ہے، کچھ کوڈ آف کنڈکٹ بھی ہوتا ہے، وزیراعظم کے عہدے کا اسٹیٹس نہیں کہ وہ اس طرح کی گفتگو کرے، خاص طور پر آرمی چیف کا نام لے کر سیاسی

جلسے میں ٹھیک نہیں ہے، ظاہر اگر وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف کی ملاقات ہوئی ہوگی تو وہ آفیشل میٹنگ ہوگی، لیکن سرکاری سطح کی ملاقات کی گفتگو کو جلسے میں کرنا قابل مذمت ہے۔اگر وزیراعظم نے فوج کے غیرجانبدار رہنے والے بیان کے تناظر میں نیوٹرل سے متعلق بیان دیا ہے تو انتہائی قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں اخلاقیات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے، سیاست کو سیاست سمجھ کر کرنی چاہیے۔ یاد رہے وزیراعظم عمران خان نے جلسے میں کارکنوں کی جانب سے ڈیزل ڈیزل کے نعرے لگانے پر کہا کہ ابھی میری جنرل باجوہ سے بات ہورہی تھی، انہوں نے کہا ہے کہ فضل الرحمان کو ڈیزل نہ کہیں لیکن جنرل باجوہ میں تو انہیں نہیں کہتا البتہ عوام نے اس کا نام ڈیزل رکھ دیا ہے۔دوسری جانب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے صدر مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے جنرل باجوہ کوکوئی شکایت نہیں لگائی، میں نے کبھی ایسی سیاست نہیں کی، سول کی طرح ملٹری بیوروکریسی قابل احترام ہے، ہم صرف یہ چاہتے کہ اپنے آئینی دائرہ اختیار میں رہیں۔اگرآج ملٹری بیوروکریسی کہتی کہ ہم غیرجانبدار ہیں ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تو اس کے جواب میں وہ کہتا ہے کہ نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے، کل آئی ایس پی آر نے جو بیان دیا ہے، آج کا بیان اس کا ردعمل ہوسکتا ہے۔

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button