مشاہد اللہ خان نے پشاور زلمی کے جاوید آفرید ی کو صدارتی ایوارڈ دینے پر اعتراض اٹھا دیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سینیٹر مشاہداللہ خان نے اداکارہ مہوش حیات اور پشاور زلمی کے مالک کو صدارتی ایوارڈ دینے کے معاملے پر اعتراض اٹھا دیا ۔ سینٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ چھ ستمبر کومہوش حیات اور پشاور زلمی کی مالک کو ایوارڈ دینے کی تصویر دیکھی ،یہ دونوں تصاویر میں نے سوشل میڈیا پر دیکھیں ،مہوش حیات کا کچھ نہیں کہتا،انہوں نے کہا کہ مہوش حیات پر بات نہیں کر سکتا،غریب آدمی ہوں اور بڈھا بھی ہو گیا ہوں۔ لیکن میں جاوید آفریدی سے متعلق بات کروں گا۔میں ان کو کوئی تکلیف نہیں پہنچانا چاہتا لیکن جاوید آفریدی کو کو ایوارڈ کیوں دیا ،

انہیں صرف اس لیے ایوارڈ دیا گیا کہ وہ کرکٹ ٹیم کے مالک ہیں۔،جاوید آفریدی کو پشاور زلمی کا مالک اور چین میں کاروباری شخصیت کے طور پر صدارتی ایوارڈ دیا گیا ۔میں نے کہیں پڑھا تھا کہ ان کا چین کے ساتھ بھی بزنس ہے۔اگر انہیں اس وجہ سے ایوارڈ دیا گیا تو پھر انہیں یہ بھی بتانا ہو گا کہ ان کے کاروبار سے پاکستان کو کتنا فائدہ پہنچا۔ایوارڈ کاروبار پر نہیں بلکہ ٹیکس دینے پر ملتے ہیں۔ ،کیا جاوید آفریدی نے ٹیکس بھی زیادہ دیا ؟ زیادہ ٹیکس پر تو ایوارڈ بنتاہے،لیکن ان کے تو ٹیکس کا بھی نہیں پتہ۔ کاروباری شخصیت کے طور پر نہیں اگر آپ نے کرکٹ کی بنیاد پر ایوارڈ دیا تو پھر لاہور قلندر کوئٹہ اسلام آباد کراچی کنگز اور ملتان سلطان کو کیوں نہیں دیا ،ہر جگہ اپنوں کو نوازنے کا سلسلہ بند کیا جائے ،جاوید آفریدی نے کوئی نہ کوئی پوشیدہ طور پر خدمت کی ہو گی،مشاہد اللہ نے مزید کہا کہ ایوارڈ دینا ہی ہے تو لاہور قلندر کے مالک کو دیا جائے،انہوں نے صحیح معنوں میں کرکٹ کی خدمت کی ہے۔وہ میچ ہارنے کے باوجود ثابت قدم رہے،وہ ایسے کرکٹر ڈھونڈ کر لائے جنہوں نے پاکستان کا نام روشن کیا۔انہوں نے کچھ نوجوانوں کو کرکٹ کے لیے آسٹریلیا بھیجا۔یہ بہت زیادتی والی بات ہے کہ ہر جگہ دوستوں کو نوازا جائے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.