منی لانڈرنگ اور شوگر ملز فراڈ کیس، جہانگیر ترین اور علی ترین بری طرح پھنس گئے

لاہور (نیوز ڈیسک) فیڈرل اینویسٹی گیشن ایجنسی لاہور نے تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے کو طلب کر لیا ۔ میڈیا ذرائع کے مطابق دونوں پاب بیٹے کو منی لانڈرنگ اور شوگر ملز میں فراڈ سے متعلق تحقیقات کیلئے طلب کیا گیا ہے ، جہاں علی ترین کو 18ستمبر کو ایف آئی اے لاہور آفس میں طلب کیا گیا ہے جبکہ ان کے والد جہانگر ترین کو 19 ستمبر کو طلبی کا نوٹس جاری کیا گیا ہے ۔بتایا گیا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم دونوں سے منی لانڈرنگ اور شوگر ملز فراڈ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں سوالات پوچھے گی ۔ دوسری طرف لاہور ہائیکورٹ نے شوگر کمیشن رپورٹ پر ایف آئی اے

کی شریف خاندان اور پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین کی شوگر ملز کی درخواستوں پر سماعت 21 ستمبر تک ملتوی کردی،عدالت نے قرار دیا کہ آئندہ تاریخ سماعت سے درخواستوں پرروزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائیگی، عدالت نے ملز کیخلاف تادیبی کارروائی کو روکنے کے حکامات میں بھی توسیع کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم اور جسٹس ساجد محمود سیٹھی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے شریف خاندان کی العریبیہ شوگر ملز اور جہانگیر ترین کی شوگر ملز کی الگ الگ درخواستوں پر سماعت کی، جس میں شوگر کمیشن رپورٹ پر ایف آئی اے کی کارروائی کو چیلنج کیا گیا۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے استدعا کی کہ جواب داخل کرانے کیلئے وقت دیاجائے۔ درخواستوں میں بتایا گیا کہ ایف آئی اے کا ملز طلبی کے نوٹس جاری کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے اور وفاقی کابینہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی فرد کو مجرم ٹھہرائے۔وکیل کے مطابق کمپنیز ایکٹ 2017ء اور سکیورٹیز ایکٹ 2015ء کے تحت ایس ای سی پی کے ریفرنس پر ایف آئی اے تحقیقات کر سکتا ہے۔وکیل نے استدعا کی کہ شوگر ملز کیخلاف وفاقی حکومت کی انکوائری کے احکامات کو غیر قانونی قرار دیکر کالعدم کیا جائے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.