موٹروے واقعے کو 7 روز گزرگئے، پولیس کی 26ٹیمیں مرکزی ملزم کوگرفتارکرنے میں ناکام

لاہور(نیوز ڈیسک)موٹروے زیادتی کیس کا مرکزی ملزم عابد ملہی تاحال گرفتار نہ ہو سکا تاہم پولیس کی تحقیقات جاری ہیں۔پولیس کی جاری تحقیقات کے مطابق دونوں ملزم خاتون سے زیادتی کے بعد دو گھنٹے تک جنگل میں رہے اور اس کے بعد شیخوپورہ میں مرکزی ملزم عابد ملہی کے گھر چلے گئے۔پولیس کے مطابق مرکزی ملزم عابد ملہی کا گینگ 4 افراد پر مشتمل ہے اور یہ گینگ ڈکیتی اور چوری سمیت زیادتی کے واقعات میں ریکارڈ یافتہ ہیں۔ ملزم شفقت علی اور اقبال عرف بالا مستری کو پولیس گرفتار کرچکی جبکہ عابد ملہی فرار ہے اور ملزمان کا چوتھا ساتھی علی شیر اس وقت سلاخوں کے پیچھے ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق ایک ماہ قبل عابد ملہی، شفقت علی اور علی شیر نے شیخوپورہ

تھانہ فیکٹری ایریا میں ڈکیتی کی وادات کی تھی جس کے بعد دونوں گرفتار کر لیے گئے تھے تاہم شفقت فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ عابد ملہی عدالت نے ضمانت حاصل کر لی تھی۔ملزمان زیادہ تر ڈکیتی کی وارداتیں شیخوپورہ میں ہی کرتے تھے۔ گینگ کا رکن اقبال عرف بالا مستری کرول گھاٹی کا رہائشی ہے اور اقبال نے ہی کرول گھاٹی کے قریب جنگل میں واردات کے لیے شفقت اورعابد ملہی کو بلایا تھا جہاں وہ دونوں پہنچ گئے تھے لیکن اقبال عرف بالا مستری نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا تھا۔واردات کی اگلی صبح ملزم شفقت دیپالپور چلا گیا تھا جہاں وہ برف خانے میں کام کرتے گرفتار ہوا تاہم کیس کا مرکزی ملزم عابد ملہی تاحال پولیس کی گرفت میں نہیں آ سکا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.