آئی ایس آئی کے نام پر خاتون صحافی کو دھمکیوں پر مقدمہ درج

اسلام آباد( نمائند خصوصی) اسلام آباد پولیس نے موبائل فون کالز کے ذریعے دھمکیاں دینے پر پروین لیاقت عرف (پریشے خان) نامی خاتون کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔یہ پاکستان میں درج کیا جانے والا اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے جس میں خفیہ ایجنسی کے نام پر ملزمہ خاتون اور ایک نامعلوم شخص نے خاتون صحافی کو دھمکیاں لگائیں۔یہ مقدمہ ٹیلی گراف ایکٹ کی دفعہ پچیس ڈی کے تحت درج کیا ہے۔ٹیلی گراف ایکٹ کی دفعہ پچیس کے تحت ان افراد کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے جو دھمکی آمیز یا قابل اعتراض ٹیلی فون کالز کریں۔ قانونی ماہرین کے تحت اس دفعہ کے تحت ملزم کو زیادہ سے زیادہ تین سال قید اور جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتیں ہیں جبکہ یہ جرم ناقابل ضمانت ہے۔

ایف آئی آر میں یہ الزام لگایا ہے کہ انہیں اپنے موبائل پر ایسے ایک پرائیویٹ نمبر کال موصول ہوئی جس میں ایک شخص نے کہا میں انسپیکٹر علی بات کر رہا ہوں آئی ایس آئی سے آپ کے خلاف پریشے خان نے شکایت کی ہے یہ شکایت دوسری دفع ہورہی ہے اور پھر پروین پریشے خان نامی خاتون کی کالز موصول ہوتی رہیں جن میں انہیں دھمکیاں دی گئیں۔ مقدمے میں یہ بھی کہا گیا کہ خاتون کے ساتھ ملک افی نام بندے نے بھی مجھے سوشل میڈیا پر میسجز اور کالز کی جس کا اصل نام زلے معراج بتایا گیا ہے جس کا تعلق پریشے خان نامی خاتون سے ثابت ہوتا ہے ۔

خاتون صحافی نے کہا ان کی وجہ سے وہ خوف ہراس کا شکار ہیں۔خاتون صحافی نے مطالبہ کیا ہے ملک کی سب سے بڑی ایجنسی کے نام پر اس طرح نام لے کر دھمکانا اور ہمارے ملک کی حساس ادارے کا نام استعمال کرنے اور مجھے دھمکیاں دینے کے خلاف بھرپور کاروایی کی جایے اور ان بلیک میلرز سے میری جان چھڑوائی جایے ذرائع سے معلوم ہوا ہے یہ ایک گروہ ہے اور مختلف لوگوں کو بلیک میل کرتے ہیں اس گروہ کا ایک شخص جیل میں سزا بھی کاٹ چکا ہے اور ایف آئی اے میں ان کے خلاف کئی درخواستیں پڑی ہوئی ہیں جو پیسے اور اسر ورسوخ استعمال کرتے ہیں اور اپنے خلاف کاروایی کو رکوا دیتے ہیں یہ بھی انکشاف ہوا ہے متعلقہ اداروں کے افسران کو بھی مختلف طریقوں سے بلیک میل کیا جاتا رہا ہے ۔

خیال رہے یہ مقدمہ اس وقت درج ہوا ہے پاکستانی وزارت داخلہ کچھ وقت نے کہا تھا کہ سویلین قیادت اور سکیورٹی فورسز کے خلاف غیر شائستہ ، اشتعال انگیز اور بدنیتی پر مبنی خبروں، ای میلز اور ایس ایم ایس بھیجنے پر سائبر کرائمز ایکٹ کے تحت کارروائی ہوگی اور اس ایکٹ کے تحت مجرموں کو چودہ برس قید اور جائیداد کی ضبطی کی سزا دی جا سکے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں