زیادہ امکان ہے کورونا وائرس موسمی بیماری بن جائے گا، تحقیق

بیروت (نیوز ڈیسک) سائنسدانوں کا خیال ہے کہ سردی اور زکام کا موسم اب سردی ، زکام اور کورونا وائرس کا موسم بن سکتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابقلبنان اور قطر میں سائنسدانوں کے تحقیقاتی مقالے کے مطابق معتدل موسم والے علاقوں میں سردیوں کے دوران کووڈ 19 یعنی کورونا وائرس کا پھیلا بہت تیز تھا۔اگر یہ پیٹرن جاری رہا تو یہ وائرس کا ہر سال سردیوں میں تیزی سے پھیلے گا اور یہ زکام اور سانس کی دیگر بیماریوں کی طرح ایک موسمی بیماری بن سکتا ہے۔سائنسدانوں کا خیال ہے کہ موسمی وائرس مثلا زکام اس لیے سردیوں میں زیادہ ہوتاہے کیونکہ لوگ زیادہ تر وقت بند جگہوں پر ایک دوسرے

کے قریب گزارتے ہیں اور انسان کی قوت مدافعت بھی سردیوں کے دوران کمزور ہوتی ہے جب کہ زکام کا وائرس کم درجہ حرارت میں زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔لبنان کی امریکن یونیورسٹی آف بیروت کے ڈاکٹر حسن زراکت کا کہناتھا کہ دستیاب معلومات کی بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کووڈ 19 ایک موسمی بیماری بن جائے گی۔تاہم محققین کا خیال ہے کہ یہ اسی صورت ممکن ہوگا جب ہم اس وائرس کے خلاف مجموعی قوت مدافعت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں جو کہ وائرس سے متاثر ہو کر یا ویکسین کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔ڈاکٹر زراکت نے کہاکہ کورونا وائرس ہر سال پھیلے گا اس لیے عوام کو اس وائرس کے ساتھ زندہ رہنا سیکھنا ہو گااور اس سے بچنے کے لیے ماسک پہننے، سماجی دوری، صفائی اور اجتماعات سے بچنا ہوگا۔دوسری طرف چین کی جانب سے تیار کی جانیوالی کورونا ویکسین آئندہ ماہ کے اوائل میں عام عوام کو دستیاب ہونے کی توقع ہے۔ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بیماریون کی روک تھام کے چینی مرکز کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ چار کورونا ویکسینز کلینکل ٹرائلز کے آخری مرحلے میں ہیں ان میں سے تین جولائی مین شروع کئے جانیوالے ایمرجنسی پروگرام ضروری ورکرکرز کو فراہم کی جا چکی ہیں ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ تیسرا کلینکل ٹرائل آرام سے کیا جا رہا ہے اور یہ ویکسین نومبر یا دسمبر میں عام عوام کو دستیاب ہو گی ۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.