بچوں سے زیادتی کے مجرمان کو سرعام پھانسی کی سزا، سینیٹ آف پاکستان سے بڑی خبر آگئی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)مسلم لیگ ن نے بچوں سے زیادتی کے ملزمان کو سر عام پھانسی دینے سے متعلق ترمیمی بل سینیٹ جمع کرادیا۔ن لیگ کے سینیٹر جاوید عباسی نے بچوں ترمیمی بل سینیٹ میں جمع کرایا، بل میں بچوں سے جنسی زیادتی کے ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کی ترمیم شامل کی گئی ہے۔بل میں عمر قید کے ملزم کو موت تک قید رکھنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔سینیٹر جاوید عباسی نے بل میں زیادتی کے مقدمات کی سیشن کورٹ کی بجائے ہائیکورٹ میں سماعت کی ترمیم بھی شامل کی ہے۔مجوزہ بل میں کہا گیا کہ ہائیکورٹ ریپ اور زیادتی کے مقدمات کا فیصلہ 2 ماہ میں کرنے کی پابند ہو گی

اور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل صرف سپریم کورٹ میں دائر ہو گی۔سینیٹ میں جمع کرائے گئے بل میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ زیادتی کے مقدمے میں ہائیکورٹ کے فیصلے پر اپیل 2 ہفتے میں نمٹائے گی۔مجوزہ بل میں کہا گیا کہ سزاؤں کا اطلاق 18سال تک کی عمر کے بچے بچیوں سے ریپ اور زیادتی پر ہو گا۔دوسری جانب قومی اسمبلی میں سیالکوٹ لاہور موٹر وے پر خاتون سے زیادتی کے واقعے پر بحث کے دوران اسپیکر اسد قیصر نے ارکان پارلیمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال میں سرعام پھانسی نہیں ہوگی تو معاملہ حل نہیں ہوگا، ایسے مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں۔اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ مجرم کو ایسی سزا دی جائے کہ آئندہ کوئی ایسی حرکت نہ کرے، قانون سازی کر کے سقم دور کئے جائیں۔ سرعام پھانسی پرڈیٹانکال کرتحقیق کرلیں کس ملک میں کتنےجرائم رکے۔واضح رہے کہ عوام کی اکثریت بچیوں اور خواتین سے زیادتی کے مجرموں کو سر عام پھانسی دینے کی حامی ہے تاہم اس میں قانونی مسائل حائل ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.