نواز شریف 23مارچ کو لاہور ائیرپورٹ اتریں گے

لاہور (نیوزڈیسک)پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو 23 مارچ کو لاہورائیرپورٹ اترنے کا مشورہ دے دیا، لانگ مارچ کے شرکاء نوازشریف کے استقبال کیلئے ایئرپورٹ جائیں گے، حکومت مخالف لانگ مارچ کی قیادت نوازشریف کریں گے۔ ذرائع لاہور نیوز کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت نے پارٹی قائد، سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی لندن سے وطن واپسی کیلئے مناسب تاریخوں اور ایئرپورٹ پر اترنے سے متعلق مشاورت شروع کردی ہے۔بتایا گیا ہے کہ ن لیگی قیادت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو مشورہ دیا ہے کہ وہ 23 مارچ کو لاہور ایئرپورٹ پر اترنے پر غور کریں۔

اگر نوازشریف لاہور ایئرپورٹ پر اتریں گے تو حکومت مخالف لانگ مارچ کے شرکاء نوازشریف کا استقبال کرنے ائیرپورٹ پر بھی جائیں گے، اسی طرح پھر نوازشریف کی قیادت میں لانگ مارچ کا کارواں اسلام آباد کی جانب چل پڑے گا۔تاہم نوازشریف کی مشاورت کے ساتھ حتمی فیصلہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کرے گی۔ یاد رہے 25 دسمبر کو قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر ایاز صادق نے کہا تھا کہ جلد کچھ بڑا ہونے والا ہے جو کسی بھی طور پر دھماکے سے کم نہیں ہوگا۔ ابھی سب کچھ بتا دیا تو حکومت اس کے سد باب کے لئے تیاری شروع کر دے گی، بس یہ یقین دہانی کراتا ہوں کہ جو بھی ہو گا، بہت بڑا ہوگا، جلد ہوگا اور اچانک ہوگا۔غیر سیاسی لوگ نواز شریف سے مل رہے ہیں ،نواز شریف جلد پاکستان واپس آ رہے ہیں ممکن ہے کہ وہ میرے لندن جانے سے پہلے ہی واپس آ جائیں۔ جس پر گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی وطن واپسی کے سوال پر کہا کہ کہا جاتا ہے کہ نواز شریف آج آرہا ہے کل آرہا ہے، نوازشریف جب سعودی عرب گئے تھے تب بھی یہی سن رہے تھے، جب تک سمجھوتا نہیں ہوا نوازشریف واپس نہیں آیا۔انہوں نے کہا کہ شہبازشریف کی تقریر نوکری کی درخواست ہوتی ہے، ہر تین ماہ بعد کہا جاتا ہے کہ حکومت مشکل میں ہے، لیکن حکومت کسی مشکل میں نہیں ہے۔ انہوں نے تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد پارلیمنٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہبازشریف کی تقریر جاب ایپلی کیشن ہوتی ہے۔

اپوزیشن ہر تین ماہ کہتیی ہے کہ حکومت مشکل میں ہے لیکن حکومت کسی مشکل میں نہیں ہے۔اسی طرح آج لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہا کہ شہبازشریف کے پاس دو ہی آپشنز ہیں لندن جائیں یا پھر جیل جائیں، شہبازشریف کو لگتا وہ ڈوب رہے ہیں تو جیسے سارا پاکستان ہی ڈوب رہا ہے، ہمارا مطالبہ ہےکہ شہبازشریف کے کیسز روزانہ کی بنیاد نہیں چلنے چاہئیں، عدالت نوازشریف کو واپس لانے کے اقدامات کرے۔ اپوزیشن کے پاس سیاست نہیں ہے، پہلے کہتے تھے کہ نوازشریف خود واپس آئیں گے اب ہم نے قدم بڑھائے وہ پھر واپس چلے گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں