سی سی پی او لاہور نے متنازعہ بیان پر معافی مانگ لی

لاہور(نیوز ڈیسک)سی سی پی او لاہور شیخ عمر نے موٹر وے واقعے سے متعلق متنازع بیان پر معافی مانگ لی۔9 ستمبر کو لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر گجر پورہ کے قریب دو افراد ایک خاتون کو گاڑی خراب ہونے پر شیشے توڑ کر زبر دستی جنگل میں لے گئے تھے، دونوں ملزمان نے خاتون کو ناصرف تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اس کے بچوں کے سامنے جنسی زیادتی بھی کی۔اس واقع پر سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ خاتون کو موٹر وے پر چڑھنے سے پہلے پیٹرول چیک کرنا چاہیے تھا اور رات کے وقت بغیر کسی مرد کے سفر نہیں کرنا چاہیے تھا۔سی سی پی او لاہور عمر شیخ

کو اس بیان پر شدید تنقید کا سامنا ہے، عوام اور سیاستدانوں کی جانب سے عمر شیخ کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جب کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان نے بھی سی سی پی او کے بیان پر حکومت سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔تاہم اب سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے اپنے متنازع بیان پر معافی مانگ لی ہے۔عمر شیخ نے گورنر پنجاب چوہدری سرور کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ میرے بیان سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو معافی مانگتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ اپنی بہنوں، بھائیوں اور سوسائٹی سے معافی مانگتا ہوں، میرا کوئی بھی غلط مطلب یا تاثر نہیں تھا، میں اپنی بہن جس سے زیادتی ہوئی اور تمام طبقات سے معافی مانگتا ہوں۔دوسری جانب پولیس نے گزشتہ روز گرفتاری دینے والے ملزم وقار الحسن کی نشاندہی پر دیپالپور میں کارروائی کی تھی جہاں سے شفقت نامی شخص کو حراست میں لیا گیا تھا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دیپالپور سے حراست میں لیے گئے ملزم شفقت نے دورانِ تفتیش خاتون سے زیادتی کا اعتراف کرلیا ہے۔ذرائع نےبتایا کہ ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ اور ملزم عابد ڈکیتی کی غرض سے موٹروے پر موجود تھے جہاں انہوں نے ایک کار کو دیکھا تو کار کی ریکی کی۔ذرائع کے مطابق شفقت نے مزید بتایا کہ وہ اور عابد ڈکیتی کی غرض سے کار کے پاس گئے جہاں انہوں نے پہلے خاتون سے لوٹ مار کی اور پھر نیچے کھائی میں لے جاکر خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ذرائع کے مطابق ملزم شفقت کا پہلے سے بھی کرمنل ریکارڈ موجود ہے اور وہ ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ ملزم شفقت کا ڈی این اے بینک میں پہلے سے ڈی این اے موجود نہیں تھا تاہم پولیس کی جانب سے شفقت کا فوری ڈی این اے کرایا گیا جو میچ کرگیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.