منی بجٹ سے مہنگائی کا نیا طوفان آنے کا کو تیار

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)حکومت نے مہنگائی کے بوجھ تلے دبی عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کی تیاریاں کر لی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں منی بجٹ منظور کرانے کا اعلان کر دیا۔ معاشی ماہرین کے مطابق منی بجٹ سے مہنگائی کا نیا طوفان آنے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ منی بجٹ میں ایک ہزار700 سے زائد اشیا پر ٹیکس لگے گا۔مہنگا پیٹرول اور مہنگا ہوگا ۔ موبائل فون ، اسٹیشنری اور پیک فوڈ آئٹمز بھی مہنگی ہونے کا امکان ہے ۔ منی بجٹ میں 350 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم ہوگی ۔ خواتین کے لیے میک اپ کا سامان بھی مہنگا ہو گا۔

لگژری اشیا کی درآمدات پر ٹیکس لگے گا ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں ڈھائی اور ٹریکٹرز پر سیلز ٹیکس میں 5 فیصد اضافے کا امکان ہے۔امپورٹڈ کپڑوں، جوتوں اور پرفیومز پر کسٹم ڈیوٹی بڑھے گی ۔بچوں کے امپورٹڈ ڈائپرز مہنگے ہوں گے۔ مقامی تیار کردہ اشیاء پر سیلز ٹیکس بارہ سے بڑھا کر17 فیصد کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ منی بجٹ میں ٹیکس وصولی کا ہدف5 ہزار 829 ارب سے بڑھا کر 6100 ارب کرنے کی تجویز شامل ہے۔ترقیاتی بجٹ میں 50 ارب روپے کی کٹوتی کی جانے کی تجویز بھی منی بجٹ کا حصہ ہے ۔خیال رہے حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ ہوئے معاہدے کے تحت منی بجٹ لانے کی تیاریاں کر لی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں آج منی بجٹ پر بات کی گئی ۔ حکومت کی جانب سے تیار کیے جانے والے منی بجٹ میں جن ایڈجسٹمنٹس کو حتمی شکل دی گئی ہے اس میں حکومت نے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت اخراجات میں 2 کھرب روپے کی کمی اور حکومت کے عمومی اخراجات میں 50 ارب روپے کی کمی کا فیصلہ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں