عمران خان کے پاس خفیہ ایجنسیز کی رپورٹس ہوتی ہیں،وزیراعظم کی پریشانی کی وجوہات سامنے آگئیں

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) سینیر تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ اطلاعات کے مطابق نوازشریف واپسی کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔92 اخبار کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ ملک واپس آتے ہیں تو ظاہر ہےانہیں پہلی فرصت میں جیل جانا پڑے گا۔عمران خان جیسے بھی ہیں مگر ان کو اس ملک کی وزیراعظم کی کرسی پر بٹھایا گیا۔ان کے پاس خفیہ ایجنسیز کی رپورٹس ہوتی ہیں جس وجہ سے انہیں پریشانی ہے،آصف زرداری کی پریشانی بھی یہی بتا رہی ہے۔سلیم صافی نے کہا کہ دونوں کی پریشانی بتا رہی ہے کہ نوازشریف واپس آ رہے ہیں۔قبل ازیں سلیم صحافی نے سماجی رابطے

کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ایک ضروری اعلان سنئے، میاں نواز شریف جنوری میں پاکستان آنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔منصوبے کے مطابق واپسی پر جیل جائیں گے ۔ پھر عدالتوں سے ریلیف اور سابقہ سزاؤں کے خاتمے کی اپیلیں ہوں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈی جی نیب لاہور کا تبادلہ اس سلسلے کی کڑی ہے جب کہ نواز شریف سکرپٹ سے مطمئن ہیں۔ اعلان ختم ہوا۔جبکہ اسی حوالے سے لندن میں موجود صحافی اظہر جاوید کا کہنا ہے کہ لندن کے سرد موسم میں اگر کہیں گرمی دیکھی جا رہی ہے تو وہ حسین نواز کا آفس ہے، ان دنوں میں حسین نواز کے آفس میں خوب رونق ہوتی ہے،نوازشریف روزانہ وہاں ملاقاتیں کرتے ہیں،پارٹی رہنماؤں سے صلاح مشورے کرتے ہیں،ادھر سب سے زیادہ یہی بحث ہوتی ہے کہ نوازشریف کی واپسی کے لیے کون سا وقت بہترین ہے۔نوازشریف سے ملاقاتیں کرنے والوں میں عام اور خاص لوگ شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ میرے خیال میں نوازشریف اتنی جلد نہیں آئیں گے، وہ فروری یا مارچ میں پاکستان آ سکتے ہیں کیونکہ ابھی بہت ساری چیزیں ہونا باقی ہیں۔اس وقت سب زیادہ اہم نوازشریف کے خلاف مقدمات کا ختم ہونا ہے۔نوازشریف اگلے انتخابات کے لیے فرنٹ رنر کے طور پر جانا چاہتے ہیں،اس کے لیے ان کی کوشش ہے کہ قانونی ٹیم نوازشریف کے مقدمات ختم کروائے،جنوری میں نوازشریف کے آنے کا امکان نہیں، نوازشریف ان دنوں بہت خوش ہیں،نوازشریف کو ملک میں ہونے والی مہنگائی پر بھی پریشانی ہے۔ایاز صادق سے بھی اہم ملاقات ہوئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں