کہتا تھا آئی ایم ایف کے پاس جانے سے پہلے خودکشی کرلوں گا، نواز شریف

لاہور(نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کہتا تھا آئی ایم ایف کے پاس جانے سے پہلے خودکشی کرلوں گا، ہم تو انتظار کررہے ہیں کب خودکشی کرے گا، لیکن خود کشی بھی نہیں کرتا اس میں بھی یوٹرن لے گیا ہے، سبز پرچم کی عزت کا عالم یہ ہے کہ ایک ایک بلین ڈالر کی بھیک مانگ رہے ہیں۔انہوں نے خواجہ محمد رفیق شہید کے 49 ویں یوم شہادت پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید خواجہ محمد رفیق نے تمام عمر جمہوریت کے قیام کیلئے جدوجہد کی،

خواجہ رفیق ہمیشہ غریبوں، مزدوروں اور دکھی انسانیت کیلئے بات کرتے تھے، عوام کا استحصال کرنے والی قوتوں کے ہمیشہ مخالف رہے، وہ ایک خالص جمہوری سیاسی رہنماء تھے، غریب پروری ان میں کوٹ کوٹ کربھری ہوئی تھی، حب الوطنی پاکستان سے محبت ان کا خاصا تھی، ان کے چلے جانے سے ایک بہت بڑا خلاء پیدا ہوگیا، جس کو آج تک محسوس کیا جارہا ہے، اس طرح کے بے لوث اور سیاسی رہنماء کم پیدا ہوتے ہیں، مجھے خوشی ہے، ان کے بیٹے خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق بھی اپنے والد کے نقش قدم پر گامزن ہیں، دونوں بھائیوں نے جبر اور ظلم کیخلاف جیلیں برداشت کیں لیکن اپنے مئوقف سے پیچھے نہیں ہٹے، خواجہ برادران مسلم لیگ ن کے شانہ بشانہ رہے۔انہوں نے کہا کہ میرے بھتیجے یوسف جیل میں ان کے ساتھ رہے، وہ چھوٹا بچہ ہے نیب نے ان کو بھی خواہ مخواہ پکڑ لیا، وہ ان کی داستان سناتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے جوانمردی سے جیل کاٹی ، نیب نے ہمارے خاندان کے کسی فرد کو نہیں چھوڑا، لیکن اللہ کے کرم سے قدم ڈگمگائے نہیں، ہم ووٹ کو عزت دو کے نعرے پر گامزن رہے، ہم ووٹ کو عزت دو کے نعرے پر گامزن رہے، بہت عرصے کے بعد کچھ چہرے آج نظر آرہے ہیں۔تین بار قوم نے ہمیں مینڈیٹ دیا، پاکستان کی خدمت کیلئے چنا، اللہ کے کرم سے ہم خوشحالی لے کر آئے ۔معیشت کو ترقی دی، یہ شخص یہاں بیٹھے ہیں ان کا نام محمد اسحاق ڈار ہے، ان کو دنیا یاد کرتی ہے، آج کے لوگوں کو بھی آپ دیکھا ہے ٹی وی پر آکر کبھی کچھ تو کبھی کچھ کہہ جاتے ہیں،گورنر اسٹیٹ بینک کچھ کہہ رہا ہے،

وزیرخزانہ کچھ کہہ رہا ہے، باقی ایڈوائزر کچھ کہہ رہے ہیں۔بات کسی سے بھی نہیں بن رہی، اس شخص کو کریڈٹ ملنا چاہیے یہ شخص گھر سے بے گھر ہوا ہے، اس کا کیا قصور ہے؟اس شخص نے کیا جرم کیا ہے؟ پاکستان کا کیا چوری کیا اور لوٹا ہے؟لیکن گھر بار سے محروم کردیا گیا ہے۔آپ رحیم یار خان جائیں، وہاں سے سکھر جائیں، پھر حیدرآباد سے کراچی تک، ڈی آئی خان سے لے کر بلوچستان کوئٹہ تک اور گوادر سے کوئٹہ تک موٹروے ملتی ہے، پھر ہائی وے بنائی گئی جو پاکستان کی تاریخ میں بھی سوچی نہیں گئی ہوگی ، گلگت سے اسکردو جائیں وہاں تک 50ارب روپیہ خرچ کرکے نئی سرخ مکمل ہوچکی ہے،

یہ نئی تاریخ رقم ہورہی تھی، یہ پتا نہیں کس نئے پاکستان کی بنیاد کیا بات کرتے ہیں، نیا پاکستان تو یہ ہے جس کی ہم نے نہ صرف بنیاد رکھی بلکہ پایہ تکمیل تک پہنچایا، میٹروبنائی، اورنج لائن بنائی، پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا، لوڈشیڈنگ کے اندھیرے ختم کیئے، میں نے کہا پانچ سال میں لوڈشیڈنگ ختم ہوگی لیکن اللہ نے تین سال میں ختم کردی۔شہبازشریف نے مجھے کہا آپ ایک سال یا دوسال لوڈشیڈنگ خاتمے کی بات کریں ورنہ ووٹ نہیں ملنا، میں نے کہا کہ یہ دوسال میں کام نہیں ہونا۔میں نے کوشش ہی کریں گے اگر پہلے ہوجائے تو بہت اچھی بات ہے کہ کہا پانچ سال اور تین میں ختم کردی ،

شہبازشریف کی ذاتی محنت نہ ہوتی تو لوڈشیڈنگ ختم کرنا مشکل کام تھا۔خواجہ سعد رفیق نے نیا ریلوے ٹریک بچھایا، اس کو ترقی کہتے ہیں، پھردہشتگردی ختم کی، روز دھماکے ہوتے تھے، پھر کراچی سمیت پاکستان کو امن کا گہوارہ بنایا۔ہسپتال، یونیورسٹیاں شہبازشریف کی ٹیم نے بنائے، لندن میں بھی ایسے ہسپتال مشکل کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ لیکن ستم ظریفی دیکھیں،نئے پاکستان کے نام پر 2018کے الیکشن کو چوری کرکے نالائقوں کھلنڈروں کا ٹولہ بٹھا دیا گیا، عمران خان کو 22کروڑ عوام پر مسلط کردیا گیا، جس نے نام نئے پاکستان کا لے کر پرانا پاکستان بھی تباہ کردیا، اسٹاک مارکیٹ زمین بوس ہوگئی،

پاکستان کے قرضے 42ہزار ارب بڑھا دیے، سرکلر ڈیبٹ 2800ارب تک پہنچ گیا، ڈالر اسحاق ڈار کے دور 105روپے آج 180روپے کا ہوگیا ہے، آج پاکستان کے اندر غربت مہنگائی اور باہر سفارتی تنہائی ہے۔سبز پرچم کی عزت کا عالم یہ ہے کہ ایک ایک بلین ڈالر کی بھیک مانگنے کیلئے کشکول لے کر جا رہے ہیں۔انہوں نے پاکستان کو بے توقیر اور بے عزت کردیا ہے، چین نے ہمیں بڑا پرانا قرض دیا ہوا تھا، وہ ہر سال ایک بلین ڈالر ری نیو ہوتا تھا، میں نے ڈار کو کہا چین ہمارا دوست ہے میں اپنے دستخطوں سے نہیں کہہ سکتا کہ اس کو ری نیو کردیں، برائے مہربانی خزانے پیسا ادا کردیں، اسحاق ڈار کہتے کہ بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ہوجائے گا،یہ کہتے اس میں توسیع کروالیں، میں نے کہا میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا، الحمد اللہ ہم نے وہ ادا کردیا، آئی ایم ایف کو خیرباد کہہ دیا، یہ کہتا میں آئی ایم ایف کے پاس جانے سے پہلے خودکشی کرلوں گا، ہم تو انتظار کررہے ہیں، خود کشی بھی نہیں کرتا اس میں بھی یوٹرن لے گیا ہے، سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کی کرسی تک نہیں رکھی جاتی، سبز پاسپورٹ کی عزت یہ ہے کہ کوئی جہاز رکھ لیتا ہے اور کوئی ہمارے ہوٹل پر قبضہ کرلیتا ہے، پی آئی اے کا برا حال کرنے والے وزیر اعظم اور پورے ٹولے کا احتساب ہونا چاہیے۔افغانستا ن میں کٹھ پتلی اور امریکن ٹی وی پر آپ کو اسلام آباد میئر سے بھی کم کہا جارہا ہے۔ ہم سب کے بڑے پاکستان آئے تھے، بڑوں نے اس لیے قربانیاں نہیں دی تھیں، کام کی بات یہ ہے کہ یاد رکھیں یہ اس لیے ہوا کہ جس کی

لاٹھی اس کی بھینس وال امعاملہ چلایا گیا، ووٹ کو عزت نہیں ملی، پہلی بار ووٹ کی عزت کا نام لیا گیا، عوام حق حکمرانی سے محروم رہے، عوام حکومت بنانے اور گرانے میں کوئی کردار نہیں رہا، عوام کی رائے کا کبھی احترام نہیں کیا گیا۔ریاست کے اوپر ریاست چلتی رہی، آئین کی آزادی پر قدغن لگی رہی، یہ اسباب سب کو یاد رکھنے چاہئیں، ان سارے مسائل کا حل ہوسکتا ہے بشرطیکہ کے 74سالہ غلطیوں سے سبق سیکھا جائے، اس کے بغیر کوئی دوسرا حل نہیں ہے، میں نہیں سمجھتا کہ کسی کو حق پہنچتا ہے کہ آرٹی ایس کو بند کیا جائے ووٹ چوری کیا جائے، جو قوم ماضی سے سبق نہیں سیکھتی اس کا مستقبل کبھی نہیں بدلتا، یہ سب کچھ عوام کی طاقت سے ممکن ہوگاعوام کو اصول اور نظریے کی خاطر کھڑا ہونا پڑے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں