ملک میں گیس بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ملک میں گیس بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کر دیا گیا۔ جیو نیوز کے مطابق اٹک ریفائنری کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) عادل خٹک کا کہنا ہے کہ پاکستان ریفائنری اور بائیکو بند ہو چکی ہیں جب کہ نیشنل ریفائنری کے بھی بند ہونے کا خطرہ ہے ، ہمیں پوری ریفائنری بند کرنی پڑی تو گیس کا بحران شدید ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تین چار دن ہم سے فرنس آئل اٹھایا گیا مگر اب پھر دو دن سے نہیں اُٹھا رہے ہیں ، ایک پلانٹ ہم بند کر چکے ہیں اور اگر یہی صورت حال رہی تو دوسرا بھی بند کرنا پڑ سکتا ہے ، حکومت لوکل ریفائنریز سے فرنس آئل لے نہیں رہی ہے ،
اوپر سے فرنس آئل درآمد کر لیا، اب بھی فرنس آئل کا ایک جہاز پورٹ پر کھڑا ہے ، اگر ہمیں پوری ریفائنری بند کرنی پڑی تو گیس کا بحران شدید ہو سکتا ہے۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے جس کے مطابق اجلاس کے دوران وفاقی وزرا نے گیس کی قلت پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے گیس کی لوڈ شیڈنگ پر سوالات اُٹھا دئے ہیں ، ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں میں گیس بحران پر حکومتی ارکان پھر بول پڑے ، اجلاس میں گیس کی قلت کےمعاملے پربحث کی گئی جبکہ وفاقی وزرا نے اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا۔وفاقی وزرا نے کہا کہ گیس لوڈشیڈنگ پرمیڈیا اور عوام سوالات کر رہے ہیں، ایکسپورٹ انڈسٹری کو گیس سپلائی نہیں ہوگی تو برآمدات متاثر ہوں گی ،کابینہ ارکان نے شکوہ کیا کہ کراچی کے ساتھ یوریا پلانٹس کو بھی گیس نہیں مل رہی جبکہ عبدالرزاق داؤد نے برآمدی صنعت سےمعاہدے کی خلاف ورزی پر سوالات اٹھائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں