رمضان شوگر ملز کے 10 کم تنخواہ ملازمین کے اکاؤنٹس میں 7 ہزار 404 ملین روپے موصول ہونے کا انکشاف

لاہور(نیوز ڈیسک)سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمے میں مزید اہم انکشافات سامنے آ گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق شریف خاندان کی ملکیتی رمضان شوگرملز کے 10 کم تنخواہوں والے ملازمین کے اکاؤنٹس میں 7 ہزار 404 ملین روپے موصول ہوئے۔ اس حوالے سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے شہباز شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمات میں عدالت میں جمع کروائی گئی ۔میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان دستاویزات کے مطابق شریف خاندان کی ملکیتی رمضان شوگر ملز کے 10

ملازمین کے اکائونٹس میں 7 ہزار 404 ملین موصول ہوئے۔ فیکٹری کے چپڑاسی ملک مقصود کے اکاؤنٹس میں 3 برسوں کے دوران 771 ملین روپے،کیشئر محمد اسلم کے اکاؤنٹ میں 1781ملین روپے موصول ہوئے۔دستاویزات میں بےایا گیا کہ رمضان شوگر ملز کے کلرک اظہرعباس کے اکاؤنٹ میں 480ملین روپے،کلرک خضرحیات کے اکاؤنٹ میں 1425 ملین روپے،باسٹورکیپرغلام شبیر کے اکاؤنٹ میں 434 ملین روپے موصول ہوئے جبکہ اسسٹنٹ اکاؤٹنٹ محمد انوار کے اکاؤنٹ میں 883 ملین روپے جبکہ اسسٹنٹ منیجرظفر اقبال کے اکاؤنٹ میں 525 ملین روپے موصول ہوئے۔ٹھیک اسی طرح انفارمیشن ٹیکنالوجی آفیسر کاشف مجید کے اکاؤنٹ میں 362 ملین روپے جبکہ رمضان شوگر ملز کے پرانے ملازم مسرور انوار کے اکاؤنٹ میں 231 ملین روپے موصول ہوئے ۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ رمضان شوگر ملز کے ڈی ای او تنویر کے اکاؤنٹ میں512 ملین روپے موصول ہوئے۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ تمام ملازمین کو شہباز شریف خاندان کے بے نامی داروں کے طور پر استعمال کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں