وزیراعظم کو منافقوں کا معلوم ہے، انہیں کچھ نام بھی دے چکا ہوں، فیصل واوڈا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہےکہ وزیراعظم کو منافقوں کا معلوم ہے، انہیں کچھ نام بھی دیے ہیں، شوگر کیس میں جہانگیرترین کے خلاف ایکشن ہوا ہے تو پالیسی بنانے والے بھی ذمہ دار ہیں، شوگر کیس میں مِس ہینڈلنگ اور مِس رپورٹنگ ہوئی۔ انہوں نے آج یہاں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شوگر کیس میں پالیسی سازوں اور منافع کمانے والوں پر یکساں ذمہ داری عائد ہوتی ہے، لیکن شوگر کیس میں مِس ہینڈلنگ اور مِس رپورٹنگ ہوئی، شوگر کیس میں اگر جہانگیرترین کے خلاف ایکشن ہوسکتا ہے تو پالیسیاں بنانے والے بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو منافقوں کا علم ہے، میں انہیں کچھ نام بھی دے چکا ہوں۔دوسری جانب تحریکِ انصاف کے سینئر رہنماء جہانگیر ترین نے کہا کہ ریکارڈ کی درستگی کے لیے یہ بتانا ضروری ہے کہ میں نے کبھی بنی گالا کے رہائشی اخراجات کے لے ایک روپیہ تک ادا نہیں کیا۔ وزیرِ اعظم عمران خان کے ساتھ میرے جیسے مرضی تعلقات ہوں لیکن ہمیشہ سچ بولنا چاہیے۔جہانگیر ترین نے کہا کہ میں نے نیا پاکستان بنانے کے لیے جس حد تک ہو سکتا تھا تحریکِ انصاف کی مدد کی۔ واضح رہے کہ تحریک انصاف کے سابق رکن نے انکشاف کیاتھا کہ جہانگیر ترین عمران خان کے گھریلو اخراجات کے لیے 30 لاکھ روپے ماہانہ دیا کرتے تھے۔ نجی نیوز چینل بول کے ساتھ گفتگو میں سابق جسٹس وجیہہ الدین نے انکشاف کیا ہے کہ جب 30 لاکھ سے بھی گھر نہ چلا تو اس کے بعد خرچ کے لیے رقم بڑھا کر 50 لاکھ روپے کر دی گئی۔اپنی گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا طرز زندگی یہ ہے کہ ان کے پاس جو گاڑی ہو وہ فیول سے بھری ہوئی ہو اور ان کے ساتھ جو لوگ ہوں وہ ان پر خرچ کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے والے ہوں۔ سابق جج وجیہہ الدین نے اپنی گفتگو میں کہا کہ میں یہاں اپنے ایک دیرینہ دوست کی بات دوہرانا چاہوں گا جو تحریک انصاف کا حصہ تھے، وہ کہتے تھے کہ جس بندے کے جوتوں کی لیس بھی اپنی نہیں ہے وہ کیسے ایماندار ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔اپنی گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ یہ مالی نوعیت کی جو بدعنوانیاں ہیں ان کے پیش نظر یہ

کبھی مت سمجھیے کہ وہ کوئی ایماندار آدمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بہت سارے لوگ تھے جو کہ پارٹی میں فنڈنگ کیا کرتے تھے بہت سارے ادارے ایسے تھے جو فنڈنگ کیا کرتے تھے۔ نجی چینل کے پروگرام کے ہوسٹ نے جب جسٹس (ر) وجیہہ الدین سے سوال کیا کہ جہانگیرترین کی جانب سے 50 لاکھ روپے پارٹی فنڈنگ کے نام پر آتے تھے یا ذاتی اخراجات کے لیے۔ تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ جن پیسوں کا میں نے ذکر کیا ہے یہ تو بنی گالہ کو چلانے کے لیے آتے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں