بھنگ بہت سی بیماریوں کا علاج ہے اور مختلف ممالک میں اسے دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جسٹس مظاہر

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کا کہنا ہے کہ بھنگ بہت سی بیماریوں کا علاج ہے اور مختلف ممالک میں اسے دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں منشیات کے ملزمان کی سزاؤں سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں 7 رکنی لارجر بینچ نے کی۔ سپریم کورٹ نے عدالتی معاونین کو تحریری معروضات جمع کروانے کا حکم دے دیا اور کہا کہ سینیٹ کی ایک کمیٹی منشیات کے ملزمان سے متعلق قانون سازی کر رہی ہے، سینیٹ کی کمیٹی میں ہونے والی پیشرفت سے متعلق آگاہ کیا جائے۔

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ حکومت جو قانون سازی کر رہی ہے اس میں مختلف منشیات کی نوعیت کے مطابق سزائیں ہوں گی۔ دوران سماعت جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے بھنگ اور ہیروئن کی سزا برابر تھی، اگربھنگ اور ہیروئن کی سزا الگ الگ کی جا رہی ہے تو یہ خوش آئند ہے، بھنگ ہیروئن سے کم خطرناک نشہ ہے۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دئے کہ بھنگ تو بہت سی بیماریوں کا علاج اور انسانی اعصاب کے لیے قوت بخش ہے، مختلف ممالک میں بھنگ کو دوا کے طور پراستعمال کیا جاتا ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ اب تو حکومت بھی بھنگ پر پالیسی بنا چکی ہے۔ عدالتی معاون اعتزاز احسن نے کہا کہ عدالت کو ایک دلچسپ واقعہ سنانا چاہتا ہوں، 1988ء میں نواز شریف ہزاروں افراد کے ساتھ ضیاء الحق کی برسی کے لیے اسلام آباد آئے، اطلاع ملی کہ زیرو پوائنٹ پر بسیں روک دی گئی ہیں، سکیورٹی خدشات پر تشویش ہوئی تو آئی جی نے بتایا کہ بسوں میں بھنگ کاٹ کاٹ کر بھری جا رہی ہے۔ اعتزاز احسن کے واقعہ سنانے پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔ سپریم کورٹ نے منشیات کے ملزمان کی سزاؤں سے متعلق کیس کی سماعت جنوری کے آخری ہفتے تک ملتوی کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں