سعودی عرب میں خطرناک کورونا قسم اومیکرون کا پہلا کیس سامنے آگیا

ریاض (نیوز ڈیسک) سعودی عرب میں خطرناک کورونا قسم اومیکرون کا پہلا کیس سامنے آگیا ۔ عالمی میڈیا کے مطابق سعودی عرب میں اومیکرون کا پہلا کیس رپورٹ ہوا ہے ، اس ضمن میں وزارت صحت کے ایک سعودی اہلکار نے ایس پی اے نیوز ایجنسی کو بتایا کہ حکام کی جانب سے ٹیسٹ کرائے جانے کے بعد شمالی افریقی ملک سے سفر کرنے والے ایک مسافر میں اومی کرون وائرس پایا گیا ، اومی کرون کی تصدیق والے سعودی شہری اور اس کے ساتھ سماجی رابطوں میں آنے والے دیگر افراد کو صحت کے طریقہ کار کے مطابق قرنطینہ کرنے کا کہا گیا ہے۔دوسری طرف اومی کرون کی دریافت

کے بعد مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک نے کئی افریقی ممالک کے مسافروں پر سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں ، نئی سفری پابندیاں لگانے والے ممالک میں عمان ، قطر ، مصر ، ایران ، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، بحرین ، مراکش ، کویت ، اسرائیل اور اردن شامل ہیں۔یاد رہے کہ جنوبی افریقی ممالک میں کورونا وائرس کی نئی اور خطرناک قسم کے پھیلاؤ کے انکشاف کے بعد عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا تھا ، اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں کورونا کی نئی قسم کو "اومی کرون” کا نام دیا گیا ، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جنوبی افریقہ میں دریافت ہونے والی کورونا وائرس کی نئی قسم کو ویرینٹ آف کنسرن یا باعث تشویش قرار دیا۔کورونا وائرس کی اس نئی قسم کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ ممکنہ طور پر یہ نئی قسم دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیل سکتی ہے ، ابتدائی شواہد سے عندیہ ملا کہ یہ نئی قسم دوبارہ کووڈ سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھا سکتی ہے ، اس نئی قسم میں بہت زیادہ تعداد میں میوٹیشنز ہوئی ہیں جن میں سے چند باعث تشویش ہیں۔ کورونا وائرس کی یہ نئی قسم سابقہ اقسام کے لہروں کے مقابلے میں بہت زیادہ تیزی سے اُبھر کر آئی جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ تیزی سے پھیلتی ہے ، دنیا کی متعدد حکومتوں کی جانب سے افریقہ کے جنوبی حصے کے ممالک سے سفر کے حوالے سے پابندیوں کو اس نئی قسم کی دریافت کے بعد سخت کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں