گھریلو صارفین کو بذریعہ پائپ لائن گیس کی فراہمی کی سہولت ختم کرنے کا عندیہ

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)گھریلو صارفین کو بذریعہ پائپ لائن گیس فراہمی کی سہولت ختم کرنے کا عندیہ۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کے اجلاس کے دوران سیکرٹری پٹرولیم کی جانب سے دیے گئے ایک بیان نے گھریلو گیس صارفین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے سینیٹر عبدالقادر کی زیر صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کے اجلاس کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری پٹرولیم نے کہا کہ دنیا میں پائپ لائن کے ذریعے گیس فراہمی کا تصور ختم ہو رہا ہے، بھارت میں بھی پائپ لائن گیس کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے۔سیکرٹری پٹرولیم کا کہنا تھا کہ ہمیں گھریلو استعمال کیلئے سلنڈر گیس کی طرف جانا ہو گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان میں 28 فیصد آبادی کو پائپ گیس ملتی ہے ، جبکہ 72فیصد آبادی سلنڈرسمیت متبادل ذرائع ایندھن کا استعمال کرتی ہے۔دوسری جانب گیس بحران کے حوالے سے وفاقی وزیر حماد اظہر کا بھی اہم بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے نجی ٹی وی چینل سماء نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گیس کارگو خریدنے میں کسی وزیر کا عمل دخل نہیں ہوتا بلکہ یہ فیصلہ ایک آزاد و غیرجانبدار بورڈ اتفاق رائے یا ووٹنگ کے ذریعے کرتا ہے۔اُن کا کہنا تھا گیس بحران کے مسئلے کو میڈیا میں آج تک ٹھیک طریقے سے پیش نہیں کیا جا سکا، یہی وجہ ہے کہ اس سے غلط فہمیاں پیدا ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں صرف 28 فیصد لوگوں کو گیس کنکشن کی سہولت میسر ہے جبکہ باقی 70 فیصد اس سہولت سے محروم ہیں۔ گیس کی قلت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس گھریلو صارفین کو ایل این جی دینے کا قانون ہی موجود نہیں ہے کیوں کہ یہ بہت مہنگی ہے۔اگر ہم لوکل گیس صارفین کو ایل این جی دے دیں تو ہمیں ایک کارگو پر 7 ارب 40 کروڑ روپے کا نقصان ہوگا، ہم انڈسٹری سے ایل این جی ٹیرف چارج نہیں کرسکتے قانون ہمیں اس کی اجازت نہیں دیتا۔ گذشتہ دور حکومت سے متعلق بات کرتے ہوئے حماد اظہر نے کہا کہ لوکل گیس کی جگہ ایل این جی کو متبادل کے طور پر استعمال کرنے کا ن لیگ کا فارمولا فیل ہوچکا ہے اور اس سے صرف تین، چار کارگو سسٹم میں ڈالنے سے ہمیں 100 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ہم ایل این جی کی صرف 12

کارگو امپورٹ کرسکتے ہیں ہم نے صرف ایک مرتبہ 13 کارگو منگوائے تھے جس سے زیادہ کے ہمارے پاس گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ پورے سال کا حساب لگا کے کہنا کہ چوں کہ اس مہینے میں ایل این جی سستی تھی تو حکومت کو اس مہینے میں ہی ایل این جی خریدنی چاہیے تھی بظاہر یہ کہنا آسان ہے لیکن یہ بات غلط اس لیے ہیں کہ ہمارے پاس اتنی اسٹوریج نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں